تہران (11 جنوری 2026): ایران کے مختلف حصوں میں مہنگائی اور معاشی بحران کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران 100 سے زائد سکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوگئے ہیں۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ مہنگائی اور معاشی بحران کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کے درجنوں اہلکار جاں بحق ہو چکے ہیں۔
سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق حالیہ ہنگاموں میں صوبہ اصفہان میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کے 30 اہلکار جبکہ مغربی ایران کے علاقے کرمانشاہ میں 6 اہلکار جاں بحق ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران آزادی کی طرف دیکھ رہا ہے ہم مظاہرین کی مدد کیلئے تیار ہیں: ٹرمپ
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ملک بھر میں ہونے والے ان مظاہروں میں اب تک مجموعی طور پر 109 سیکورٹی اہلکار جاں بحق ہو چکے ہیں۔
ہلال احمر کے مطابق صوبہ گلستان کے دارالحکومت گورگان میں ایک امدادی عمارت پر حملے کے دوران عملے کا ایک اہلکار بھی جان کی بازی ہار گیا۔
سرکاری میڈیا نے بتایا کہ گزشتہ شب مشرقی ایران کے شہر مشہد میں ایک مسجد کو آگ لگا دی گئی۔
جانی نقصان کے یہ اعداد و شمار ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایرانی حکام ملک کے بڑے احتجاجی مظاہروں کو روکنے کی کوششیں تیز کر رہے ہیں جن میں ہزاروں افراد مہنگائی اور افراط زر کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کا مظاہرین کو بھڑکانے والے 600 موساد ایجنٹوں کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ
وزارت داخلہ نے بتایا کہ فسادات بتدریج کم ہو رہے ہیں جبکہ اٹارنی جنرل نے خبردار کیا کہ بدامنی میں ملوث افراد کو سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ہفتے کے روز ایک اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار علی لاریجانی نے بعض مظاہرین پر الزام لگایا کہ وہ لوگوں کو قتل کر رہے ہیں یا انہیں زندہ جلا رہے ہیں جو کہ داعش کے طرز عمل سے مشابہت رکھتا ہے۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک انٹرویو میں معاشی منصوبوں اور عوام کے مطالبات پر گفتگو کی۔
مسعود پزشکیان نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل فسادات کا حکم دے کر ایران میں افراتفری اور بدامنی کا بیج بونا چاہتے ہیں۔
صدر نے ایرانی عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خود کو فسادیوں اور دہشتگردوں سے دور رکھیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


