بیروت (8 جنوری 2026): ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکا جنگ کا ارادہ رکھتا ہے تو ایران اس کیلیے تیار ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ سرکاری دورے پر لبنان کے دارالحکومت بیروت پہنچے جہاں انہوں نے پریس کانفرنس میں اہم بیان دیا ہے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات کیلیے اُس وقت تک تیار ہے جب تک وہ باہمی احترام اور مفادات پر مبنی ہوں، لیکن اگر واشنگٹن کا ارادہ جنگ کا ہے تو تہران اس کیلیے بھی تیار ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران ایرنی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ان کے دورہ لبنان کا مقصد علاقائی سلامتی کیلیے اسرائیل کی جانب سے پیدا کردہ چیلنجز اور خطرات پر تبادلہ خیال کرنے کے ساتھ ساتھ دوطرفہ تعلقات کو وسعت دینا بھی ہے۔
ایرانی آرمی چیف کی وارننگ
گزشتہ روز ایرانی آرمی چیف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی دھمکیوں پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ جنرل امیر حاتمی نے وارننگ دی کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حکومت مخالف مظاہروں کی حمایت کے بعد ایران خاموش تماشائی بن کر بیرونی طاقتوں کو خود کو دھمکانے کی اجازت نہیں دے گا۔
جنرل امیر حاتمی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی قوم کے خلاف دشمن کی بیان بازی میں اضافے کو ایک خطرہ تصور کرتے ہیں اور اسے جواب دیے بغیر مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔
آرمی چیف نے خبردار کیا کہ اگر دشمن نے کوئی غلطی کی تو ایران کا ردعمل جون 2025 میں اسرائیل کے ساتھ ہونے والی 12 روزہ جنگ سے کہیں زیادہ سخت ہوگا۔
امریکا کی دھمکی
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر ایران میں مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کرے گا جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے احتجاجی مظاہروں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
اتوار کو ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ہم صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، اگر انہوں نے ماضی کی طرح لوگوں کو مارنا شروع کیا تو انہیں امریکا کی جانب سے انتہائی سخت جواب دیا جائے گا۔
نیتن یاہو کی ہرزہ سرائی
جبکہ نیتن یاہو نے اسرائیلی کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ ہم ایرانی عوام کی جدوجہد اور ان کی آزادی، خود مختاری اور انصاف کی خواہشات کے ساتھ یکجہتی کیلیے کھڑے ہیں۔


