اتوار, مئی 17, 2026
اشتہار

واشنگٹن سے فی الحال بات چیت کا کوئی ارادہ نہیں، ایران نے مذاکرات جاری رکھنے سے انکار کر دیا

اشتہار

حیرت انگیز

تہران (20 اپریل 2026): ایران نے امریکا کے ساتھ مزید مذاکرات سے انکار کر دیا ہے، اور کہا ہے کہ واشنگٹن سے فی الحال بات چیت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی نئے مذاکراتی دور کا کوئی منصوبہ نہیں، واشنگٹن سے فی الحال بات چیت کا ارادہ نہیں ہے۔ ترجمان نے کہا موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ بات چیت ممکن نہیں ہے، امریکا ماضی سے سبق نہیں سیکھ رہا، امریکی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی جس کے نتائج بھی بہتر نہیں ہوں گے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے مطابق امریکا کی غلطیوں کا تسلسل خطے کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، غلط پالیسیوں سے کبھی مثبت نتائج نہیں نکل سکتے، امریکا کی روش خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے رہی ہے۔


وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکا کے اقدامات خطے میں استحکام کی بجائے بحران بڑھا رہے ہیں، امریکا میڈیا کے ذریعے متضاد بیانات دے رہا ہے جب کہ ہم نے ایک ہی مؤقف رکھا ہے، ہماری شرائط لاجک پر مبنی ہیں اور کچھ میڈیا ایسا دعویٰ کر رہا ہے جس کا اصل سے کوئی تعلق نہیں۔


اسماعیل بقائی نے کہا امریکا پر کوئی بھروسہ نہیں کر سکتا، وہ اب بھی غیر حقیقی مطالبات پر انحصار کر رہا ہے، ماضی میں بھی امریکا نے معاہدوں کے منافی اقدامات کیے، امریکا نے بحری ناکہ بندی جاری رکھ کر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی، امریکی اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارت کاری میں ان کی دل چسپی نہیں ہے، ایسے میں ایران اپنے مفادات کا تحفظ جاری رکھے گا۔


ترجمان نے کہا کہ ایران کے قومی مفادات کسی ملک کی بدمعاشی پر قربان نہیں کر سکتے، پاکستان کو بطور ثالث امریکا کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں سے آگاہ کر دیا، پاکستان نے امن کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے، ایران پر جارحیت کے لیے امریکا نے پڑوسی ممالک کے اڈے استعمال کیے۔


انھوں نے کہا ایران نے 10 نکاتی تجویز پیش کی تھی جس پر اسلام آباد ٹاکس میں غور کیا گیا، امریکا نے لبنان میں جنگ بندی کو سیز فائر معاہدے کا حصہ ماننے سے انکار کیا، امریکا نے بحری ناکہ بندی نافذ کر کے کشیدگی مزید بڑھا دی ہے، ایرانی جہاز پر حملہ جنگ بندی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، اس نے مذاکراتی عمل کی 2 بار خلاف ورزی کی، لبنان میں جنگ بندی کی بنیاد پر ہی ہم نے آبنائے ہرمز کو کھولا تھا، لیکن ہم نے امریکی بددیانتی کے کئی اقدامات دیکھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے امریکا جنگ بندی کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔


ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ایرانی مسلح افواج کسی بھی حملے کا سخت جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ انھوں نے کہا افزودہ یورینیم کی منتقلی سے متعلق امریکا نے میڈیا میں بہت باتیں کیں، جب کہ مذاکراتی دور میں اس نے افزودہ یورینیم کی منتقلی سے متعلق بات ہی نہیں کی تھی۔


اسماعیل بقائی نے کہا کہ دشمن ایران کی سائنسی میدان میں ترقی نہیں دیکھنا چاہتے، دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ایران کی عوام کا بھی سائنسی میدان میں ترقی حق ہے، ایران کی ترقی روکنے کے لیے دشمن نے ہماری یونیورسٹیوں اور اسکولوں کو نشانہ بنایا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں