ٹرمپ سے مذاکرات یا بات چیت ’ذلت‘ ہوگی، ایرانی حکام - ٹرمپ سے مذاکرات یا بات چیت ’ذلت‘ ہوگی، ایرانی حکام
The news is by your side.

Advertisement

ٹرمپ سے مذاکرات یا بات چیت ’ذلت‘ ہوگی، ایرانی حکام

تہران: ایران کے حکام نے امریکا کی جانب سے مذاکرات کی دعوت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ سے بات چیت ہمارے لیے ذلت ہوگی۔

ایرانی میڈیا کے مطابق امریکا کی جانب سے حکام کو بھیجی جانے والی مذاکرات کی دعوت کو حکومت اور تمام سیاسی جماعتوں نے مسترد کردیا اور اپیل کی ہے کہ ٹرمپ سے کسی صورت مذاکرات نہ کیے جائیں۔

ایران کے وزیر داخلہ عبدالرضا رحمانی کا کہنا تھا کہ ’امریکا اور ٹرمپ نے تکبر کا راستہ اختیار کرتے ہوئے فیصلے کیے اور وہ جوہری معاہدے سے علیحدہ ہوا، اب وہ ہمارے لیے ابل بھروسہ نہیں اور نہ ہم اُس کے اقدامات کا کسی صورت یقین کرسکتے ہیں‘۔

مزید پڑھیں: امریکی صدرنےایرانی ہم منصب کوملاقات کی پیشکش کردی

ایرانی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر علی مطاہری نے ٹرمپ کے بیانات اور وائٹ ہاؤس کے ایران مخالف بیانات کو توہین آمیز قرار دیتے ہوئے مذاکرات کو ناقابل تصور قرار دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر حکومت بات چیت کا راستہ اختیار کرتی ہے تو یہ ذلت ہوگی۔

واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اعلان کررکھا ہے کہ وہ 6 اگست کو ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے جارہا ہے، امریکی اعلان کے بعد سے ایرانی کرنسی کی قدر نیچے آگئی۔

ایک ہفتہ قبل امریکی صدر نے ایرانی صدر روحانی کو دھمکی دی تھی کہ ’اگر ایران اپنا جوہری پروگرام ملتوی نہیں کرے گا اور امریکا کو دھمکانا نہیں چھوڑے گا تو مستقبل میں بڑی مصیبت کے لیے تیار رہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران میں حکومت گرانا نہیں چاہتا، رویے کی تبدیلی چاہتے ہیں: امریکی وزیر دفاع

قبل ازیں امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے ایران سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا ایران میں حکومت گرانا نہیں چاہتا، ہم بس حکمرانوں کے رویے اور پالیسیوں کی تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں