تہران (11 مئی 2026): ایران کے سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ تہران نے امریکی تجاویز مسترد کر دی ہیں اور امریکی تازہ ترین تجاویز کے جواب میں جنگی معاوضے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی تجاویز پر ایران نے اپنے ردعمل میں جنگی نقصانات کے معاوضے اور آبنائے ہرمز پر اسلامی جمہوریہ کی خودمختاری کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
امریکی تجاویز میں دیے گئے کسی بھی ایسے فریم ورک کو بھی ایران نے مسترد کیا ہے، جس سے اسٹریٹجک آبی گزرگاہ پر ایران کا کنٹرول کمزور ہو۔ ایرانی مؤقف میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز نہ صرف ایران کی قومی سلامتی بلکہ خطے کی معاشی اور تزویراتی اہمیت کا بھی مرکزی حصہ ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ امریکی تجاویز حد سے زیادہ مطالبوں کے آگے ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے، اس کے برعکس ایران نے امریکا سے جنگی نقصانات کے معاوضے کی ادائیگی پر زور دیا ہے۔ تہران کی جانب سے تجاوز میں آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری قائم رہنے پر زور دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھیں فیلڈ مارشل نے بتایا کہ امریکی تجاویز پر ایران کا جواب موصول ہو گیا ہے، تاہم ایران کے جواب سے متعلق ابھی مزید تفصیل بتا نہیں سکتا۔
جنگ کا خاتمہ : صدر ٹرمپ نے ایران کا جواب مسترد کردیا
وزیر اعظم نے کہا امریکا ایران جنگ بندی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری ہیں، مذاکراتی عمل کے لیے نائب وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کی جانب سے ملنے والے جواب کو مسترد کر دیا ہے، ٹروتھ سوشل پر بیان میں انھوں نے کہا ایران کا جواب قابل قبول نہیں۔ ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکا کو جواب بھجوایا تھا۔
اس سے پہلے صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پوسٹ میں کہا ایران 47 سال سے امریکا اور باقی دنیا کے ساتھ کھیل کھیل رہا ہے، یہ ہمارے لوگوں کو سڑک کنارے بموں سے مار رہے ہیں، اوباما نے ایران کو نئی زندگی دی اور اتحادیوں کو نظر انداز کیا۔ صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ضرورت پڑی تو مزید دو ہفتے ایران پر حملے کر سکتے ہیں کیوں کہ ایران میں اہداف باقی ہیں۔
ادھر وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے اپنی جوہری تنصیبات ختم کرنے سے انکار کر دیا ہے، تاہم ایران افزودہ یورینیم کی بلند سطح کم کرنے پر تیار ہو گیا ہے، اس نے انتہائی افزودہ یورینیم تیسرے ملک منتقل کرنے اور آبنائے ہرمز بتدریج کھولنے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔ ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز مکمل کھولنے کے لیے امریکی ناکہ بندی اور جنگ کے خاتمے کی شرط رکھی گئی ہے، ایران کا کہنا ہے عالمی ضمانتوں کے بغیر آبنائے ہرمز نہیں کھل سکتی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


