پیر, فروری 9, 2026
اشتہار

ایرانی کرنسی بری طرح کریش، ریال صفر ڈالر کے برابر ہو گیا

اشتہار

حیرت انگیز

تہران (14 جنوری 2026): ایران میں مہنگائی اور معاشی مشکلات کے خلاف مظاہرے جاری ہیں، ایسے میں ایرانی ریال کی قدر بری طرح گر گئی ہے اور ریال تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی ریال کی قدر صفر ڈالر کے برابر ہو گئی ہے جب کہ یورو کے مقابلے میں بھی ایرانی ریال کی قیمت صفر ہو گئی ہے، اور پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ایرانی ریال محض 26 پیسے کا ہو گیا ہے۔

ایران اس وقت شدید معاشی بحران کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی سیاسی بے چینی کا بھی سامنا کر رہا ہے۔ ایک بڑے دھچکے کے طور پر ایرانی کرنسی ریال نے یورپ میں عملی طور پر اپنی قدر کھو دی ہے اور یورو کے مقابلے میں اس کی قیمت صفر ہو چکی ہے۔

قدر ختم ہونے کے باعث ایرانی ریال کو اب یورپی ممالک میں تبدیل (ایکسچینج) نہیں کیا جا سکتا، جس سے ایران عالمی مالیاتی نظام سے مزید الگ تھلگ ہو گیا ہے۔ ملک کے اندر صورتِ حال انتہائی خراب ہو چکی ہے، جہاں عام شہری بنیادی ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر نظر آتے ہیں۔


1979 کے ایرانی انقلاب کے وقت ڈالر کی تجارت تقریباً 70 ریال تھی۔ چار دہائیوں سے زیادہ کے بعد اب شرح مبادلہ 1.4 ملین سے بھی زیادہ ہو چکا ہے، یعنی ریال اپنی قدر تقریباً 20,000 گنا کم کر چکا ہے۔


اس سنگین معاشی انہدام نے پورے ایران میں وسیع پیمانے پر احتجاج کو جنم دیا ہے، جہاں مظاہرین اب کھلے عام نظامِ حکومت میں تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ احتجاج 28 دسمبر کو شروع ہوئے، جن کی ابتدا تاجروں اور کاروباری افراد نے کی، جو تیزی سے کمزور ہوتی معیشت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ریال کی قدر میں شدید گراوٹ کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔

ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی کی رضا پہلوی سے خفیہ ملاقات کا انکشاف

ایرانی کرنسی کی یہ گراوٹ غیر معمولی ہے، بھارتی روپے کے مقابلے میں ریال کی قدر اب صرف 0.000091 پیسے رہ گئی ہے، جب کہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں یہ تقریباً 0.0000010 سینٹ تک گر چکی ہے۔ سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ یورو کے مقابلے میں ریال کی قدر صفر ہو گئی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اب یورپی یونین کے تمام 27 ممالک میں ریال نہ تو قابلِ قبول ہے اور نہ ہی قابلِ تبادلہ۔

کیا ایرانی کرنسی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے؟


اگرچہ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ریال ’’مکمل طور پر تباہ‘‘ ہو چکا ہے، تاہم ماہرین وضاحت کرتے ہیں کہ جب تک کوئی ملک فعال ہے، اس کی کرنسی حقیقتاً صفر نہیں ہو سکتی۔ موجودہ صورت حال دراصل قوتِ خرید میں شدید کمی، غیر معمولی قدر میں گراوٹ اور ممکنہ طور پر کرنسی کی ازسرِ نو قدر بندی (ری ڈینومینیشن) کی عکاس ہے۔

اکتوبر 2025 میں ایرانی پارلیمان نے ایک منصوبے کی منظوری دی تھی، جس کے تحت ریال سے چار صفر ختم کیے جائیں گے۔ اس منصوبے کے لیے دو سالہ تیاری اور تین سالہ منتقلی کا عرصہ مقرر کیا گیا ہے، اور اس دوران پرانے اور نئے نوٹ بیک وقت گردش میں رہیں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام کاغذی سطح پر کرنسی کو قابلِ استعمال بنانے کے لیے ایک عارضی ’’ری سیٹ‘‘ ہے، تاہم یہ بنیادی معاشی مسائل جیسے کہ مہنگائی، کمزور اقتصادی نمو اور غیر ملکی کرنسی تک محدود رسائی کا حل نہیں ہے۔

ایرانی ریال کے زوال کی 5 بڑی وجوہ


امریکی اور بین الاقوامی پابندیاں: برآمدات، خصوصاً تیل سے حاصل ہونے والے ڈالر تک رسائی محدود ہونے کے باعث ریال پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

شدید مہنگائی: دسمبر 2025 میں صارفین کی قیمتوں میں 42.5 فی صد اضافہ ہوا، جس کے باعث شہری نقد رقم رکھنے کی بجائے غیر ملکی کرنسی، سونا یا ضروری اشیا خریدنے پر مجبور ہو گئے۔

کمزور معاشی نمو: 2025 میں ایران کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں 1.7 فی صد کمی ہوئی، جب کہ 2026 میں مزید سکڑاؤ کی پیش گوئی کی جا رہی ہے، جس سے سرکاری آمدنی اور مالی استحکام متاثر ہوا ہے۔

پالیسی میں تبدیلیاں: حالیہ اصلاحات کے تحت درآمد کنندگان کو کھلی منڈی کی شرح پر غیر ملکی کرنسی خریدنے کا پابند بنایا گیا، جس سے اچانک ڈالر کی طلب میں اضافہ ہوا۔

سیاسی بے چینی: مذہبی قیادت اور معاشی بدانتظامی کے خلاف جاری احتجاج نے ایک اضافی ’’رسک پریمیم‘‘ پیدا کر دی ہے، جس سے کرنسی کی قدر میں گراوٹ مزید تیز ہو گئی ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں