جمعہ, فروری 13, 2026
اشتہار

ایران کے حق میں چین اور روس کی پیش کردہ قرارداد مسترد ہو گئی

اشتہار

حیرت انگیز

نیویارک (27 ستمبر 2025): اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل نے ایران نیوکلیئر معاملے پر روس اور چین کی مشترکہ قرارداد مسترد کر دی۔

تفصیلات کے مطابق جمعہ کے روز سلامتی کونسل میں چین اور روس نے ایک قرارداد کا مسودہ پیش کیا، جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ایران نیوکلیئر ڈیل کرنے والے ممالک مذاکرات کا عمل بحال کریں، تاہم 15 رکنی سلامتی کونسل کے 9 اراکین نے قرارداد کی مخالفت، 4 نے حمایت کی، اور 2 غیر حاضر رہے۔

کونسل میں ایران کے جوہری معاہدے کی توسیع کی قرارداد کی منظوری نہ ملنے کا مطلب یہ ہے کہ جو پابندیاں اس معاہدے کے تحت اٹھا لی گئی تھیں، وہ ہفتے کی شام سے دوبارہ نافذ العمل ہو جائیں گی۔

اس قرارداد کا مقصد 2015 کے ایران جوہری معاہدے کو 6 ماہ کے لیے توسیع دینا تھا، تاکہ سفارتی کوششوں کے لیے وقت فراہم کیا جا سکے، مسودہ کو صرف چار ووٹوں کی حمایت حاصل ہوئی، جب کہ قرارداد کی منظوری کے لیے کم از کم 9 مثبت ووٹ درکار تھے۔

امریکی شہریت کا پیدائشی حق ختم کرنے کے لیے ٹرمپ نے اہم قدم اٹھا لیا

اگر یہ قرارداد منظور ہو جاتی تو یہ ایران اور 6 عالمی طاقتوں — برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی، روس اور امریکا — کے درمیان جوہری معاہدے کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 2231 (2015) کو بھی 6 ماہ کے لیے توسیع دیتی۔ اس قرارداد کا مقصد ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کے ازسرِنو نفاذ کو روکنا بھی تھا۔

جمعہ کے روز ہونے والی ووٹنگ کا نتیجہ بالکل وہی رہا جو 19 ستمبر کو اس وقت دیکھنے میں آیا تھا جب جنوبی کوریا، جو ستمبر کے مہینے کے لیے سلامتی کونسل کا صدر تھا، نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد پیش کی تھی۔ اگر وہ قرارداد منظور ہو جاتی تو ایران پر پابندیوں میں نرمی برقرار رہتی تاہم وہ قرارداد بھی مسترد کر دی گئی تھی۔

جمعہ کی قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ممالک میں الجزائر، چین، پاکستان اور روس شامل تھے، جب کہ گیانا اور جنوبی کوریا رائے شماری سے غیر حاضر رہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں