ایران کا کہنا ہے کہ عمان معاہدہ ‘آخری مراحل’ میں ہے لیکن امریکا کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔
ایران نے اتوار کے روز کہا کہ آبنائے ہرمز میں نئی شپنگ لین کی وضاحت کے لیے عمان کے ساتھ معاہدہ آخری مراحل میں ہے لیکن اس نے اس بات کا اعادہ کیا کہ آبی گزرگاہ صرف اس صورت میں دوبارہ کھلے گی جب امریکہ دیگر شرائط پوری کر لے گا۔
ایک امریکی اہلکار نے خبر ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان ایک معاہدہ قریب ہے اور جلد ہی اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھول سکتا ہے جس میں عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کا پانچواں حصہ تھا۔
ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکا کو 6 شرائط پیش کردیں!
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ عمان سے بات چیت کا مطلب یہ نہیں کہ آبنائے ہرمز کو کھولا جا رہا ہے مذاکرات کا مقصد اس راستے کا تعین کرنا ہے جو آبنائےہرمز کے دوبارہ کھلنے پر استعمال ہو گا۔
عراقچی نے واضح کیا کہ ہم فی الحال امریکا کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کر رہے البتہ ثالث ممالک کے ذریعے پیغامات کاتبادلہ جاری ہے لیکن اسے مذاکرات نہیں کہا جا سکتا، ثالث ممالک مذاکرات کی بحالی کا راستہ تلاش کرنے کے لیے بدستور کوششیں کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک امریکا مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزیاں بند اور ازالہ نہیں کرتا مذاکرات کا امکان نہیں۔


