ہفتہ, اپریل 18, 2026
اشتہار

ایران کا ’سجیل میزائل‘ کتنا خطرناک ہے اور اسے ’ڈانسنگ میزائل‘ کیوں کہا جاتا ہے؟

اشتہار

حیرت انگیز

تہران(16 مارچ 2026): ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور تہران کی جانب سے خلیجی ممالک اور اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرونز کی بارش کا سلسلہ برقرار ہے۔

جنگ کے 17ویں روز پیر کی علی الصبح دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایندھن کے ٹینک پر ڈرون حملے سے لگنے والی آگ کے بعد اب ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے اتوار کو اسرائیل کے خلاف آپریشن ‘وعدہ صادق 4’ کی 54 ویں لہر میں پہلی بار اپنے اسٹریٹجک بیلسٹک میزائل ‘سجیل’ کا تجربہ کیا ہے۔

سجیل میزائل کو ‘عاشورہ’ بھی کہا جاتا ہے، یہ دو مراحل والا بیلسٹک میزائل ہے جو ٹھوس ایندھن سے چلتا ہے۔ مائع ایندھن والے میزائلوں کے برعکس اسے بہت تیزی سے لانچ کیا جا سکتا ہے۔ اس کی لمبائی 18 میٹر اور وزن 23,600 کلوگرام ہے، جبکہ یہ 700 کلوگرام وزنی روایتی یا جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس میزائل کی سب سے خطرناک بات اس کی لچک اور رفتار ہے۔ ایرانی دعوؤں کے مطابق یہ مرکزی ایران سے داغے جانے کے بعد صرف سات منٹ میں تل ابیب پہنچ سکتا ہے۔

سجیل میزائل مصر، سوڈان اور جنوبی روس کے کچھ حصے، یوکرین کے بیشتر حصے، مغربی چین کے ایک حصے، بھارت اور بحرِہند اور بحیرۂ روم کے بڑے حصے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سجیل میزائل کے پرواز کے تمام مراحل میں اپنی چال بدلنے کی صلاحیت کی وجہ سے اسے ‘ڈانسنگ میزائل’ کا نام دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسرائیل کا مشہور ‘آئرن ڈوم’ اور دیگر روایتی دفاعی نظام اسے روکنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس پر اینٹی ریڈار کوٹنگ بھی کی گئی ہے جو اسے ریڈار کی نظروں سے اوجھل رکھتی ہے۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اتوار کے حملوں میں سجیل کے ساتھ ساتھ خرم شہر، خیبر شکن، قدر اور عماد میزائلوں کا بھی استعمال کیا گیا۔ ان حملوں میں اسرائیل کے انتظامی و عسکری مراکز کے علاوہ کویت میں الحریر ایئر بیس، علی السالم ایئر بیس اور کیمپ عارفجان کو نشانہ بنایا گیا جس سے وہاں شدید نقصان اور خوف و ہراس پھیل گیا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق تل ابیب میں ایک ایرانی میزائل امریکی قونصلر اہلکار کی رہائش گاہ پر گرا، جبکہ جنوبی تل ابیب میں ہونے والی بمباری میں کم از کم تین اسرائیلی زخمی ہوئے۔ وسطی اسرائیل میں بھی میزائل کے ٹکڑے گرنے سے ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔

اگرچہ موجودہ جنگ میں یہ سجیل کا پہلا استعمال ہے، تاہم ایران اسے گزشتہ سال اسرائیل کے خلاف 12 روزہ جنگ میں بھی استعمال کر چکا ہے۔ اس وقت ایران نے بیئر شیوا میں اسرائیلی فوج کے انٹیلی جنس کمپلیکس اور کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنا کر دنیا کو حیران کر دیا تھا۔

دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران سجیل کے مزید جدید ورژن (سجیل 3) پر بھی کام کر رہا ہے جس کی رینج 4,000 کلومیٹر تک ہو سکتی ہے، سجیل میزائل اگر جوہری ہتھیاروں سے لیس ہوا تو یہ مزید خوفناک ہوسکتا ہے۔

ایران نے اس میزائل کا پہلا تجربہ 2008 میں کیا تھا۔ 2009 سے اب تک اس میزائل کے چار اضافی فلائٹ ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ چھٹے ٹیسٹ کے دوران اس میزائل نے بحرِ ہند میں تقریباً ایک ہزار 900 کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا تھا۔

ایران نے پہلی بار اسرائیل پر ٹھوس ایندھن سے چلنے والے ’سجیل میزائل‘ داغنا شروع کر دیے

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں