ہفتہ, مارچ 7, 2026
اشتہار

ایران میں نوبل انعام یافتہ خاتون کو ساڑھے 7 قید کی سزا ہو گئی

اشتہار

حیرت انگیز

تہران (09 فروری 2026): ایران کی عدالت نے نوبل انعام یافتہ خاتون نرگس محمدی کو ساڑھے 7 سال قید کی سزا سنا دی۔

ایران میں مشہد کی ایک عدالت نے نوبل انعام یافتہ انسانی حقوق کی کارکن نرگس محمدی کو مزید ساڑھے سات سال قید کی سزا سنا دی ہے، نرگس محمدی کو ’’اجتماع اور سازش‘‘ کے الزام میں 6 سال جب کہ ’’ریاست مخالف پروپیگنڈا‘‘ کے الزام میں ڈیڑھ سال قید کی سزا سنائی ہے۔

53 برس کی نرگس محمدی پر دو سال تک ملک چھوڑنے کی پابندی بھی لگائی گئی ہے، تاہم سزا کے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔ نرگس کئی سالوں سے مختلف الزامات پر ایران میں قید کی سزا بھگت رہی ہیں۔ وہ ایران میں سزائے موت اور خواتین کے لباس سے متعلق سخت قوانین کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہیں۔

نرگس کو دسمبر میں ایک یادگاری تقریب کے دوران ’’اشتعال انگیز تقریر‘‘ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، ان کے خاندان کا کہنا تھا کہ گرفتاری کے دوران تشدد کیے جانے کے بعد انھیں اسپتال منتقل کیا گیا۔ یاد رہے کہ ان کو 2023 میں ایران میں خواتین پر ہونے والے جبر کے خلاف جدوجہد پر نوبیل انعام دیا گیا تھا۔

نیتن یاہو کی اہلیہ ہوٹلوں سے تولیے چراتی ہیں، انکشاف

نرگس کو مشرقی علاقے خوسف میں دو سالہ جلاوطنی کی سزا بھی سنائی گئی ہے، نرگس فاؤنڈیشن نے ہفتے کے روز ہونے والی سماعت کو ’’ایک ڈھونگ‘‘ قرار دیا اور بتایا کہ نرگس نے 2 فروری کو بھوک ہڑتال شروع کر دی تھی۔ نرگس سے ملاقات کرنے والی خاتون نیلی نے میڈیا کو بتایاکہ 3 دن قبل نرگس کو ’’خراب جسمانی حالت‘‘ کے باعث اسپتال لے جایا گیا تھا، جس کے بعد انھیں دوبارہ اسی حراستی مرکز میں واپس بھیج دیا گیا جہاں وہ قید ہیں۔

نرگس محمدی کے شوہر تقی رحمانی نے کہا کہ عدالت میں انھوں نے کوئی دفاع پیش نہیں کیا کیوں کہ ان کا پختہ یقین ہے کہ یہ عدالتی نظام کسی بھی قسم کی قانونی حیثیت نہیں رکھتا اور یہ کارروائی پہلے سے طے شدہ انجام کے ساتھ ایک محض تماشا تھی۔ انھوں نے کہا نرگس کو زبردستی عدالت میں پیش کیا گیا اور وہ خاموش رہیں، انھوں نے نہ ایک لفظ کہا اور نہ ہی کسی کاغذ پر دستخط کیے۔

تقی رحمانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس سزا کو ظالمانہ اور انتہائی ناانصافی پر مبنی قرار دیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے کی اپیل کی۔ دریں اثنا نرگس کی بیٹی کیانا رحمانی نے کہا کہ وہ اپنی ماں کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔

نرگس اب تک اپنی زندگی کے 10 سال سے زائد کا عرصہ جیل میں گزار چکی ہیں، نرگس فاؤنڈیشن کے مطابق حالیہ سزا کے بعد مجموعی طور پر انھیں 44 سال قید کا حکم دیا جا چکا ہے۔ 2021 سے وہ ’’ریاست کے خلاف پروپیگنڈا‘‘ اور ’’ریاستی سلامتی کے خلاف سازش‘‘ کے الزامات کے تحت 13 سالہ سزا کاٹ رہی ہیں، جن کی وہ تردید کرتی ہیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں