واشنگٹن (09 فروری 2026): امریکا کے وزیر خزانہ اسکاٹ کینتھ بیسنٹ نے اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے ایران میں ڈالر کی شدید قلت پیدا کی ہے۔
امریکا کے وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اعتراف کیا ہے کہ واشنگٹن نے جان بوجھ کر ایران کے اندر امریکی ڈالر کی کمی کو انجینئر کیا، ایک ایسی پالیسی جس نے ایک بڑے ایرانی بینک کے خاتمے، قومی کرنسی کی قدر میں تیزی سے کمی اور دسمبر کی بدامنی سے قبل ہونے والے معاشی دباؤ میں مدد کی۔
اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ واشنگٹن کی پالیسی کی وجہ سے ایران کا ایک بڑا بینک دیوالیہ کر گیا، سینیٹر کیٹی الزبتھ کے پوچھنے پر سیکریٹری نے کہا کہ امریکی اقدامات کے باعث ایران کے مرکزی بینک نے نوٹ چھاپے جس سے کرنسی کی قدر گر گئی، اور ایران میں مہنگائی قابو سے باہر ہو گئی۔
انھوں نے کہا ایرانی قیادت پاگلوں کی طرح ملک سے پیسہ باہر منتقل کر رہی ہے، گویا چوہے ڈوبتے جہاز کو چھوڑ رہے ہوں۔
جمعے کو سینیٹ کی سماعت کے دوران بات کرتے ہوئے بیسنٹ نے تصدیق کی کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے مالیاتی نظام کو براہ راست نشانہ بناتے ہوئے اپنی ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کی مہم کو تیز کر دیا ہے۔
جنوری میں 100 طلبہ ہلاک ہوئے، ایران کی وزارت صحت نے تصدیق کر دی
انھوں نے مزید تسلیم کیا کہ واشنگٹن نے ایران کی تیل برآمدات کو بھی ’’زیرو تک لے جانے‘‘ کی کوشش کی، جس کے باعث ملک پر معاشی دباؤ میں اضافہ ہوا اور اس کے اثرات عام ایرانی شہریوں پر مزید گہرے ہو گئے۔
20 جنوری کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بیسنٹ نے دوبارہ واضح کیا تھا کہ امریکی پابندیاں دانستہ طور پر ایران کی کرنسی کو کمزور کرنے کے لیے بنائی گئی تھیں، اور انھوں نے اس معاشی جنگ کو ’’معاشی حکمتِ عملی‘‘ قرار دیا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


