تہران (17 جنوری 2026): ایران میں انٹرنیٹ کی جزوی بندش کے دوران ایلون مسک کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹار لنک کو ایک غیر معمولی اور پیچیدہ صورت حال کا سامنا ہے۔
اسٹار لنک کی مالک کمپنی اسپیس ایکس نے ہفتے کے آغاز سے ایرانی صارفین کے لیے یہ سروس مفت فراہم کرنا شروع کر دی ہے، جسے ایران میں مواصلاتی پابندیوں کے خلاف ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران میں جاری صورت حال نہ صرف اسٹار لنک کے لیے ایک بڑا تکنیکی اور سیکیورٹی چیلنج ہے بلکہ یہ کمپنی کے لیے اپنی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کرنے کا نادر موقع بھی بن گئی ہے۔
اسٹار لنک اور اس کے فوجی ورژن اسٹار شیلڈ استعمال کرنے والی امریکی فوج اور انٹیلی جنس ادارے اس صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ چین بھی اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ اسپیس ایکس ایرانی رکاوٹوں اور ممکنہ حملوں کا کس حد تک مقابلہ کر پاتی ہے۔
پینٹاگون کے خلائی پالیسی کے سابق عہدے دار جان پلمب کا کہنا ہے کہ دنیا خلائی مواصلات کے ایک ابتدائی اور غیر معمولی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں فی الوقت اسپیس ایکس کی اجارہ داری ہے، کچھ ریاستیں اب بھی یہ سمجھتی ہیں کہ وہ انٹرنیٹ اور مواصلات بند کر سکتی ہیں، لیکن وہ وقت قریب ہے جب یہ عملاً ممکن نہیں رہے گا۔
گرین لینڈ پر قبضے کی امریکی خواہش کے پیچھے کس کاسمیٹکس کمپنی کا ہاتھ نکلا؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران میں اسٹار لنک کی سروس کو روایتی کیبل نیٹ ورکس اور موبائل ٹاورز کے برعکس کنٹرول کرنا انتہائی مشکل ہے۔ ایک امریکی این جی او ہولسٹک ریزیلینس کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ پابندیوں کے باوجود ہزاروں اسٹار لنک ڈیوائسز ایران میں اسمگل ہو چکی ہیں۔
اسٹار لنک کے صارفین کے لیے فراہم کیے جانے والے آلات مستطیل شکل کے اینٹینا ڈشز ہوتے ہیں، جو دو سائز میں دستیاب ہیں: ایک پیزا باکس کے برابر اور دوسرا چھوٹے لیپ ٹاپ کے سائز کا۔ یہ سروس جنگی حالات اور دور دراز علاقوں میں مواصلات کے لیے ایک نہایت اہم ذریعہ بن چکی ہے۔
یہ نیٹ ورک 2024 میں سپیس ایکس کے لیے تقریباً 15 ارب ڈالر کی آمدنی کا سبب بنا اور اس نے ایلون مسک کے عالمی جغرافیائی و سیاسی اثر و رسوخ میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے۔ اس وقت تقریباً 10 ہزار اسٹار لنک سیٹلائٹس نچلے مدار میں تقریباً 27,360 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گردش کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے سگنلز کو ٹریک کرنا یا ناکارہ بنانا روایتی سیٹلائٹ نظاموں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہے۔
اگرچہ اسٹار لنک کو ایران میں کام کرنے کا باضابطہ لائسنس حاصل نہیں، تاہم ایلون مسک نے کئی بار سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایران میں اس سروس کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔ اسی وجہ سے ایرانی حکومت طویل عرصے سے اس سروس کو روکنے کی کوششیں کر رہی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیل کے ساتھ جون 2025 کی 12 روزہ جنگ کے بعد ایرانی پارلیمنٹ نے اسٹار لنک کے استعمال پر پابندی اور خلاف ورزی پر سخت سزاؤں کا قانون منظور کیا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


