The news is by your side.

Advertisement

ایران نے جوہری معاہدے کی شقوں سے انحراف پر عمل درآمد شروع کر دیا

تہران: امریکا کے بعد ایران کی یورپ سے بھی کشیدگی بڑھنے لگی، ایران نے جوہری معاہدے کی شقوں سے انحراف پر عمل درآمد شروع کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق ایران نے جوہری معاہدے سے جزوی طور پر دست برداری کا اعلان کیا تھا، یورپی دباؤ کے باوجود تہران حکام نے اب اس پر عمل درآمد شروع کردیا ہے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق ترجمان ایرانی نیوکلیئر ایجنسی بہروز کمالوندی کا کہنا تھا کہ ایران اب 20 فیصد سے زیادہ یورینیم افزودہ کر سکتا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے کے تحت ایرانی ریسرچ اور ڈیولپمنٹ پروگرام پر عائد پابندیاں ہٹانی شروع کر دی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب یورینیم افزدوگی کے لیے جدید تیز تر سینٹری فیوجز کا استعمال کریں گے، ایسے 40 جدید سینٹری فیوجز اس وقت قابلِ عمل ہیں۔

جوہری معاہدہ، ایرانی وزیرخارجہ نے یورپی یونین کو خبردار کردیا

بہروز کمالوندی کا یہ بھی کہنا تھا کہ جدید سینٹری فیوجز کے استعمال سے ایران 20 فیصد سے زائد یورینیم افزودہ کر سکتا ہے، یورپی ساتھیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ جوہری معاہدے کو بچانے کے لیے اب ان کے پاس زیادہ وقت نہیں رہ گیا۔

واضح رہے کہ جوہری معاہدے کے تحت ایران صرف 3 فیصد سے زائد تک یورینیم افزودہ کرنے کا پابند تھا۔

حال ہی میں ایران نے یورپی یونین کو خبردار کیا تھا کہ اگر انہوں نے امریکا کی جانب سے پابندی عائد کرنے کے بعد تہران کی معیشت کو استحکام دینے میں مدد نہ کی تو وہ 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کو مزید کم کردے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں