تہران (17 مئی 2026): ایران کی اسٹاک مارکیٹ تقریباً 80 دن بند رہنے کے بعد منگل 19 مئی کو دوبارہ ٹریڈنگ شروع کرنے جا رہی ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اِرنا نے ہفتے کے روز ایک سینئر عہدے دار کے حوالے سے بتایا کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ تنازع کے دوران معطلی کے بعد ایران منگل کو اپنی اسٹاک مارکیٹ دوبارہ کھول دے گا۔
روئٹرز کے مطابق اسٹاک مارکیٹ کو امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا۔
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج آرگنائزیشن کے ڈپٹی سپروائزر حمید یاری نے کہا ’’جنگ کے آغاز سے اسٹاک مارکیٹ کی سرگرمیوں کی معطلی کا مقصد شیئر ہولڈرز کے اثاثوں کا تحفظ، خوف و ہراس کے تحت ہونے والی ٹریڈنگ کو روکنا، اور زیادہ شفاف قیمتوں کے تعین کے لیے حالات فراہم کرنا تھا۔‘‘
انھوں نے مزید کہا ’’اب، اسٹاک مارکیٹ کے دوبارہ کھلنے کے ساتھ، ہم سرمایہ جاتی منڈی کے تمام شعبوں کی مکمل بحالی دیکھیں گے۔‘‘ حمید یاری کا کہنا تھا کہ رابطہ کاری کا عمل اور ضروری منظوریوں کا مرحلہ مکمل کر لیا گیا ہے، جس کے بعد حصص، سرمایہ کاری فنڈز اور ڈیریویٹوز کی ٹریڈنگ دوبارہ شروع کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
مستقبل گلوبل ساؤتھ کا ہے، باقر قالیباف کا ٹویٹ
عہدے دار کے مطابق اسٹاک مارکیٹ کی معطلی یکم مارچ کو عمل میں لائی گئی تھی اور اسے بعد ازاں 7 مارچ کو غیر معینہ مدت تک بڑھا دیا گیا تھا۔
مارکیٹ کے دوبارہ کھلنے سے لاکھوں ریٹیل سرمایہ کار دوبارہ سرگرم ہو جائیں گے، تاہم موجودہ صورت حال میں بڑا سوال یہ ہے کہ آیا وہ پرسکون انداز میں اپنی سرمایہ کاری برقرار رکھیں گے یا بڑی تعداد میں حصص فروخت کرنے کی طرف بڑھیں گے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی حکام مارکیٹ کی بحالی کو شدید گراوٹ میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے متعدد امدادی اقدامات کی تیاری کر رہے ہیں۔
زیر غور اقدامات میں انفرادی اسٹاکس پر سخت قیمت حدود نافذ کرنا بھی شامل ہے، جس کے تحت کسی ایک شیئر کی قیمت کو ایک مخصوص تجارتی سیشن میں حد سے زیادہ گرنے سے روکا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ ممکنہ طور پر ’’مارکیٹ میکر‘‘ مداخلت پر بھی غور کیا جا رہا ہے، یعنی مخصوص شرکا کو مارکیٹ میں لیکویڈیٹی فراہم کرنے اور فروخت کے دباؤ کو جذب کرنے کے لیے متحرک کیا جائے گا، خاص طور پر اُس وقت جب قدرتی خریدار کم ہوں۔
تجزیہ کار خبردار کر رہے ہیں کہ مارکیٹ کھلتے ہی فروخت کا شدید دباؤ سامنے آ سکتا ہے۔ وہ سرمایہ کار جو کئی ہفتوں یا مہینوں سے اپنے حصص فروخت کرنا چاہتے تھے، اب انہیں موقع ملے گا۔ اگر ان میں سے بڑی تعداد نے بیک وقت فروخت شروع کر دی تو ممکن ہے کہ موجود حفاظتی اقدامات بھی اس دباؤ کو برداشت نہ کر سکیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


