تہران(13 اپریل 2026): امریکا کی جانب سے بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد اعلیٰ سطح کے ایرانی حکام نے جوابی کارروائی کی دھمکیاں دی ہیں۔
سابق پاسدارانِ انقلاب کمانڈر اور موجودہ عسکری مشیر محسن رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ایرانی مسلح افواج کے پاس آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا مقابلہ کرنے کے لیے کئی ایسے ’خفیہ ہتھیار اور ذرائع‘ موجود ہیں جنہیں ابھی تک استعمال نہیں کیا گیا۔
ایرانی کمانڈر کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی منصوبہ بندی صرف ٹوئٹس اور خیالی اقدامات پر مبنی ہے، انہوں نے واضح کیا کہ ایران محض ٹویٹس اور خیالی منصوبوں سے مرعوب نہیں ہوگا، آبنائے ہرمز ایران کے مکمل کنٹرول میں ہے۔
امریکا مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت کرنے والے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے وطن واپسی پر صدر ٹرمپ کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا ”اگر آپ لڑیں گے، تو ہم بھی لڑیں گے۔“
The spokesperson for Khatam al-Anbiya Central Headquarters said security in the Persian Gulf and Gulf of Oman must be collective, warning that threats to Iranian ports would have wider regional consequences.
He warned that if the security of Iranian ports is threatened, no port… pic.twitter.com/3taxRljcLe
— Mehr News Agency (@MehrnewsCom) April 13, 2026
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اب بھی ایران کے ”مکمل کنٹرول“ میں ہے تاہم کسی بھی فوجی نقل و حرکت کا ”بھرپور جواب“ دیا جائے گا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ ناکہ بندی کا آغاز پیر کو امریکی وقت کے مطابق صبح 10 بجے ہوگا، جس کا اطلاق ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے تمام ممالک کے جہازوں پر بلا امتیاز ہوگا۔
اس اعلان کے فوراً بعد ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خلیج فارس اور خلیج عمان کی تمام بندرگاہوں کو دھمکی دی ہے جس سے خطے میں بڑے ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پیر کو جاری بیان میں خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹر کے ترجمان نے کہا کہ خلیج فارس اور بحیرہ عمان کی سیکیورٹی یا تو سب کے لیے ہوگی یا پھر کسی کے لیے بھی نہیں ہوگی۔ ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب کے مشترکہ بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ اب خطے کی کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


