تہران (6 جون 2026): ایران نے اپنے ہمسایہ ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جارحیت پسندوں (امریکا اور اسرائیل) کو اپنی سرزمین تہران کے خلاف حملوں کیلیے استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی فوج نے ایران کے ریڈار سسٹم اور ساحلی نگرانی کی تنصیبات پر حملہ کیا، دہشتگرد فوج نے حملہ ہفتے کی صبح سیرک اور جزیرہ قشم میں کیا، تنصیبات کا مقصد ملکی سرحدوں اور بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کی حفاظت کرنا تھا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ امریکی حملہ یکم اپریل کی جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی ہے جس کی پُرزور مذمت کرتے ہیں، ایرانی مسلح افواج نے جائز دفاع کے حق کے تحت جارحانہ اقدام کا مؤثر جواب دے دیا ہے، مسلح افواج نے پوری طاقت اور عزم کے ساتھ جارحیت کے منصوبہ سازوں کے مقاصد ناکام بنا دیے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کو داد دینی چاہیے کہ وہ اندرونی طور پر تقسیم نہیں ہوا، روسی صدر
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ امریکا نے جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزی کی ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ واشنگٹن صرف کشیدگی کو کم کرنے کا عزم نہیں رکھتا، وہ اپنی مہم جوئی سے خطے کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی اقدامات کے نتائج کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے، کشیدگی میں کسی بھی ممکنہ اضافے کا ذمہ دار امریکا ہوگا۔
عباس عراقچی نے مطالبہ کیا کہ خطے کے ہمسایہ ممالک اچھی ہمسائیگی کے اصول پر عمل کریں، وہ بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصول کی پاسداری کریں اور جارحیت پسندوں کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔


