تہران (14 جنوری 2026): ایران اور امریکا میں کشیدگی مزید بڑھنے لگی، تہران نے واشنگٹن سے سفارتی رابطہ منقطع کر دیا ہے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے اعلیٰ حکام کے درمیان براہ راست رابطہ ختم ہوگیا ہے، یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تہران میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے جواب میں امریکی فوجی حملوں کے خدشے کے باعث شدید تناؤ ہے۔
ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف کے درمیان بات چیت معطل کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے ایران سے تمام سفارتی روابط منقطع کر دیے
یہ رپورٹ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مظاہرین کی ہلاکتوں پر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے درمیان سامنے آئی ہے۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس پر حملہ کیا گیا تو وہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے خلاف جوابی کارروائی کرے گا۔
روئٹرز نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ان بڑھتی ہوئی کشیدگیوں کے پیش نظر قطر میں موجود امریکی فوج کے العدید ایئربیس کے کچھ عملے کو بدھ کی شام تک وہاں سے نکل جانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


