جمعرات, اپریل 16, 2026
اشتہار

خلیجی ممالک کا سرمایہ اب بہہ کر کہاں جائے گا؟ امریکا ایران جنگ کا ایک اہم تجزیہ

اشتہار

حیرت انگیز

(08 مارچ 2026): حالیہ امریکا ایران جنگ مشرق وسطیٰ کے خلیجی ممالک کے لیے تباہ کن ثابت ہوگی۔

2025 میں سعودی سرمایہ کاروں نے امریکی اسٹاک میں ریکارڈ 837 ارب سعودی ریال لگائے، جو نہ صرف امریکی ایکیوٹی میں 98 فی صد تھے بلکہ سعودی سرمایہ کاروں نے امریکی اسٹاکس کی ٹریڈنگ میں ہر قسم کا ریکارڈ توڑ دیا۔ یہی نہیں 2025 میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں پراپرٹی کی مد میں 271 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری ہوئی جس میں 85 فی صد حصہ صرف یو اے ای اور سعودی عرب کا تھا۔ مگر سرمایہ کاری کے لیے جنت جیسے خلیجی ممالک آنے والے وقت میں ایک بھیانک خواب کا منظر پیش کرنے والے ہیں کیوں کہ حالیہ جنگ دنیا میں سرمایہ کاری کا ایک نیا میدان تیار کرنے کو تیار ہے۔


ایران امریکا جنگ نے مشرق وسطیٰ کو ایک محفوظ پناہ گاہ کی بجائے سرمایہ کاری کے لیے جہنم بنا دیا ہے، جس کی وجہ سے آنے والے وقت میں خلیجی ریاستیں ایک محفوظ سرمایہ کاری کی جنت کی بجائے ایک بھیانک خواب بنتی جا رہی ہیں۔ ایران کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کے نام پر حملے اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں۔


ایران کا نشانہ حقیقتاً امریکی اڈوں کی تباہی کے ساتھ ساتھ وہ خوف کی فضا پیدا کرنا ہے جو اس خطے کو سرمایہ کاری کے لیے جہنم بنا دے۔ وقت کا دھارا بتا رہا ہے کہ آنے والا وقت ان علاقوں کے لیے تباہ کن ہوگا، حالات اگر اسی طرح کشیدہ رہے تو وہ وقت دور نہیں جب مشرق وسطیٰ سے ساری سرمایہ کاری منتقل ہو جائے گی۔ جس طرح عراق میں 2003 میں حملے کے بعد آزاد محققین نے تخمینہ لگا کر بتایا تھا کہ 320 ارب ڈالرز عراق سے اسمگل ہوئے ہیں۔

اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیں

خلیجی ممالک کی مجبوری یہ بھی ہے کہ وہ ایران کے ساتھ براہ راست تصادم کا خطرہ مول نہیں لے سکتے کیوں کہ اگر وہ ایران سے جنگ کرتے ہیں تو ان ریاستوں کی سلامتی ایک بہت بڑا مسلہ بن سکتا ہے۔

اگرچہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کو امریکا اور یورپی ممالک نے ایک خاص سوچ کے تحت محفوظ پناہ گاہ یا ’سیف ہیون‘ بنایا تھا اور عراق شام اور اور دیگر عرب ممالک میں مغرب نے تباہی تو پھیلائی مگر مشرق وسطیٰ کے ممالک کی حفاظت مختلف طریقوں سے کی جاتی رہی ہے، مگر موجودہ جنگ کی کیفیت مغربی ممالک کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ کی ان گلف ممالک کی حفاظت اور سرمایہ کاری کے حوالے سے سوالیہ نشان اٹھا رہی ہے۔ اب اس حقیقت کو نظر انداز کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن نظر آتا ہے کہ رواں سال اور آنے والا وقت خلیجی ممالک کی معاشی اور ریاستی سالمیت کے حوالے سے اچھا شگون نہیں رکھتا۔


ایک بار جب سرمایہ کار یہ یقین کھو دیں کہ ان کا سرمایہ محفوظ نہیں، تو مالی ماڈل اندر سے خاموشی سے بکھرنا شروع ہو جاتا ہے، بغیر ایک بھی میزائل فائر کیے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وقت کا بے رحم دھارا اس سرمائے کو کہاں کی مارکیٹیں جذب کریں گی؟ کیوں کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت سے بہنے والے بہاؤ کم نہیں ہوں گے۔ آنے والے وقت میں سینکڑوں ارب ڈالر نئی مارکیٹوں کی تلاش میں سرگرداں نظر آئیں گے۔


اگرچہ ایران نے کل ہی خلیجی ممالک پر حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے مگر کاروباری ذہنیت اور میدان تجارتی ماحول کا مرہون منت ہوتا ہے نہ کہ یقین دہانیوں کا۔

+ posts

ندیم جعفر اے آر وائی نیوز سے وابستہ ایک ممتاز صحافی ہیں جو کہ مختلف سماجی اور سیاسی موضوعات پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ ندیم کراچی یونیورسٹی سے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر کی ڈگری اور آسٹریلیا کے ایک باوقار ادارے سے ایڈوانس سرٹیفیکیشن کے حامل
ہیں۔

اہم ترین

ندیم جعفر
ندیم جعفر
ندیم جعفر اے آر وائی نیوز سے وابستہ ایک ممتاز صحافی ہیں جو کہ مختلف سماجی اور سیاسی موضوعات پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ ندیم کراچی یونیورسٹی سے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر کی ڈگری اور آسٹریلیا کے ایک باوقار ادارے سے ایڈوانس سرٹیفیکیشن کے حامل ہیں۔

مزید خبریں