نیویارک : ایران امریکا کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں بھونچال آگیا اور خام تیل 95 ڈالر سے تجاوز کر گیا۔
تفصیلات کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نے عالمی مالیاتی منڈیوں کو لرزا کر رکھ دیا، خلیجِ فارس میں بحری جہازرانی کے متاثر ہونے اور آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز کی نقل و حرکت محدود ہونے کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد سے زائد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
توانائی کی منڈی میں غیریقینی صورتحال کے باعث قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی، عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 95 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد عبور کر گئی ہے۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے عالمی توانائی کے بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تیل کی سپلائی کا بڑا حصہ گزرتا ہے، وہاں کشیدگی نے سپلائی چین کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
جنگی صورتحال کے سائے عالمی اسٹاک مارکیٹس پر بھی گہرے ہوتے جا رہے ہیں ، یورپی اسٹاک ایکسچینج شدید دباؤ کا شکار ہیں اور اہم انڈیکسز میں تیزی سے کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔
جاپان، ہانگ کانگ اور جنوبی کوریا کے بازاروں میں ابتدائی طور پر معمولی بہتری دیکھی گئی، تاہم جلد ہی "منافع کی فروخت” کا رجحان غالب آگیا اور سرمایہ کاروں نے مارکیٹ سے رقم نکالنا شروع کر دی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت عالمی سرمایہ کاروں میں شدید خوف اور غیریقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان یہ تنازع جلد حل نہ ہوا تو عالمی معیشت مہنگائی کی ایک نئی لہر کی لپیٹ میں آسکتی ہے، جس سے ترقی پذیر ممالک کے لیے توانائی کے اخراجات برداشت کرنا مشکل ہو جائے گا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


