اسلام آباد : ماہر بین الاقوامی امور مشاہد حسین سید نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے پوری تیاری کرلی ہے، آئندہ 48 گھنٹوں میں ایران پر حملہ کیا جائے گا۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’خبر ہے‘ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگلے 48 گھنٹوں میں کوئی بھی بڑا ایونٹ ہوسکتا ہے، تیاری مکمل ہے۔
مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ امریکی حملے کا جواب دینے کے لیے ایرانی افواج بھی مکمل طور پر تیار ہیں، امریکا کو کچھ خوف ضرور ہے کہ حملے کی صورت میں ایران کی جانب سے کس طرح کا ردعمل آسکتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ امریکا کو متعدد ممالک کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ ایران پر حملہ نہ کریں، کیونکہ امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے۔
ماہر بین الاقوامی امور کا مزید کہنا تھا کہ ایران کی آبادی بڑی اور طاقتور ہے، اس پر حملہ کیا تو نتائج سنگین ہونگے، ان کی امریکا فرسٹ سے پالیسی بدل کر اسرائیل فرسٹ ہوگئی ہے۔
مزید پڑھیں : ایران پر عنقریب حملہ ہوسکتا ہے، برطانوی خبر رساں ادارہ
واضح رہے کہ برطانوی خبر رساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر امریکا کے فوری حملے کا خطرہ کافی حد تک بڑھ گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تمام اشارے ظاہر کرتے ہیں کہ عنقریب ایران پر حملہ ہو سکتا ہے، اچانک حملہ امریکی فوج کی حکمت عملی کا حصہ ہوگا۔
خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے اپنی فضائی حدود تمام پروازوں کیلئے بند کردی ہے، برطانیہ نے عارضی طور پر تہران میں سفارت خانہ بند کردیا، مغربی ممالک کی اپنے شہریوں کو ایران سے فوری نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


