The news is by your side.

Advertisement

ایرانی فلم نفس دیکھ کر ٹرمپ کے نظریات تبدیل ہوجائیں گے، نرگس آبیار کا چلینج

تہران : ایرانی فلمساز نرگس آبیار نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان کی فلم نفَس دیکھ کرایران کےحوالے سے اپنے نظریات میں یقنی تبدیلی لائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق غیر ملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو میں ایرانی فلمساز نرگس آبیار نے کہا کہ ایرانی قوم دہشت گرد نہیں ہے ،ان کی فلم نفس امریکی شہریوں اور صدر کی غلط فہمی دور کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔

نرگس آبیار کا کہنا تھا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان فلم دیکھیں گے تو یقیناََ ایران سے متعلق اپنا نظریہ تبدیل کرلیں گے۔

ایرانی فلمساز نرگس آبیار نے یہ انٹرویو امریکی صدر کے اس بیان کے بعد دیا، جس میں انہوں نے ایرانی قوم کو دہشت گرد اور مشرق وسطٰی میں بحران کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔

فلم نفس کی کہانی چھوٹی بچی بہار کے گرد گھوم رہی ہے، جس کی والدہ کا انتقال ہو چکا ہے۔ وہ دمے کے مریض اپنے والد، اپنی دادی اور اپنے تین بہن بھائیوں کے ساتھ رہتی ہے اس دوران 1970ء اور 1980ء کی دہائی میں  اسلامی انقلاب اور ایران عراق جنگ کے دوران رونما ہونے والے واقعات نےان کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا تھا۔

آبیار کا کہنا تھا کہمیں نے بہار کا انتخاب اس لئے کیا کیونکہ میں دنیا بتانا چاہتی ہوں کہ ایرانی لڑکی کو کن رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ بہار پر اپنے کزن جو لڑکے تھے انکے ساتھ کھیلنے پر بھی پابندی تھی اور ایک وقت ایسا آتا ہے جب بہار سوچتی ہے کہ کاش میں لڑکا ہوتی۔


مزید پڑھیں : ٹرمپ کے مسلمان مخالف اقدامات، ایرانی اداکارہ کا آسکر ایوارڈ کی تقریب میں شرکت سے انکار


نرگس نے کہا کہ ایران کی خواتین مشرق وسطی میں سب سے زیادہ انتہائی تعلیم یافتہ ہیں اور انکو ملازمتوں کی اجازت  ہیں لیکن اس اسلامی قانونی نظام کے تحت مردوں کے مقابلے میں ان کے کم حقوق ہیں، جیسے وراثت ، طلاق جبکہ وہ سفر اور کپڑے کی پابندیوں کے تابع بھی ہیں۔

خیال رہے کہ ایرانی فلمساز نرگس آبیار کی فلم ’نفس‘ کو غیر ملکی زبانوں کی بہترین فلم کے شعبے میں آسکر کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ایران کی معروف اداکارہ ترانہ علی دوستی نے ٹرمپ کی متعصبانہ پالیسیوں پر شدید احتجاج کیا تھا اورآسکر ایوارڈ کی تقریب میں شرکت سے انکار کردیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں