تہران(19 مارچ 2026): ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ان کے رویے کو منافقانہ اور مضحکہ خیز قرار دے دیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں سوال اٹھایا کہ جب اسرائیل نے ایران کے شہری انفراسٹرکچر پر حملے کیے تو صدر میکرون خاموش کیوں رہے؟
انہوں نے کہا کہ فرانسیسی صدر صرف اس وقت فکرمند ہوتے ہیں جب ایران دشمن کی جارحیت کا جوابی حملہ کرتا ہے۔ عباس عراقچی نے شہری انفراسٹرکچر پر حملوں کی روک تھام کے لیے میکرون کی تجویز کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
اس کے علاوہ عباس عراقچی نے پینٹاگون کے 200 ارب ڈالر کے نئے فنڈنگ پیکج کو امریکی عوام پر اسرائیل فرسٹ ٹیکس قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ مغربی ممالک اسرائیلی جارحیت کو مکمل طور پر نظرانداز کر رہے ہیں اور ان کی تمام تر کوششیں صرف اپنے مفادات کے تحفظ تک محدود ہیں۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران اپنی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کا جواب دینے کا پورا حق رکھتا ہے اور عالمی برادری کو اسرائیل کی یکطرفہ کارروائیوں پر خاموشی توڑنی چاہیے۔
واضح رہے کہ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔
یاد رہے کہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ایران اور قطر میں گیس کی پیداواری تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے بعد، شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والی فوجی کارروائیوں پر فوری پابندی (موریٹوریئم) کا مطالبہ کیا ہے۔
صدر میکرون نے بتایا کہ انہوں نے ان حملوں کے بعد قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ توانائی اور پانی کی تنصیبات پر حملوں کو فوری طور پر روکنا تمام فریقین کے "مشترکہ مفاد” میں ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


