تہران(2 نومبر 2025): ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ وہ نیوکلیئر مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ تہران مغربی دباؤ قبول نہیں کرے گا، البتہ وہ واشنگٹن کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
تاکہ اپنے جوہری پروگرام پر ایک منصفانہ معاہدہ طے کیا جا سکے، انہوں نے کہا کہ ایران بین الاقوامی خدشات کا ازالہ کرنے کے لیے تیار ہے لیکن حملے کے بعد کسی قسم کی رعایت نہیں دے گا۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ہم پر امن مقاصد کے حامل اپنے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، لیکن ہم یورینیم افزودگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ ایران جوہری پروگرام پر منصفانہ معاہدے پر پہنچنا چاہتا ہے لیکن امریکا کی جانب سے پیش کی جانے والی شرائط ناقابل قبول ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران نے جون میں اسرائیل کے ساتھ ہونے والی جنگ کو مؤثر انداز میں سنبھالا اور اسے خطے میں پھیلنے سے روکا، ایران کسی بھی نئی جارحیت کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اگر لڑائی دوبارہ شروع ہوئی تو اسرائیل کو ایک اور شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔
عراقچی نے تصدیق کی کہ جنگ کے دوران ایرانی جوہری تنصیبات کو نقصان پہنچا، تاہم یورینیم افزودگی کی ٹیکنالوجی محفوظ ہے اور جوہری مواد تاحال ان بمباری زدہ مراکز میں موجود ہے۔


