تہران : ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے ٹرمپ کی جانب سے "پتھر کے زمانے” میں لے جانے کی دھمکی پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا شہری ڈھانچے اور پل پر حملے ایرانی عوام کو سرینڈر پر مجبورنہیں کرسکتے۔
تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو "پتھر کے زمانے” میں لے جانے کی دھمکی پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سابق وزیر خارجہ جواد ظریف نے انتہائی سخت اور تاریخی ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پتھر کے دور اور آج کے دور میں بڑا فرق یہ ہے کہ پہلے مشرقِ وسطیٰ میں تیل اور گیس نہیں تھی، کیا ٹرمپ وہی پرانا دور واپس لانا چاہتے ہیں؟
انہوں نے واضح کیا کہ شہری ڈھانچے اور پلوں پر حملے ایرانی عوام کو سرینڈر کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایسے حملے صرف دشمن کی شکست اور اخلاقی زوال کو ظاہر کرتے ہیں، ہم ہر تباہ شدہ پل اور عمارت کو پہلے سے زیادہ مضبوطی سے دوبارہ بنائیں گے، امریکہ کی عالمی ساکھ کو جو نقصان پہنچ چکا ہے، وہ اب کبھی بحال نہیں ہو سکے گا۔
سابق وزیر خارجہ جواد ظریف نے ٹرمپ کی دھمکی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ایران تب بھی تہذیب کا مرکز تھا جب امریکہ نقشے پر موجود نہیں تھا اور تمہارے یورپی آباؤ اجداد چہروں کو رنگ کر گھوما کرتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے تمہارے آباؤ اجداد کو قانون، ریاست اور نظم و نسق کی تعلیم دی، مگر افسوس کہ ہماری دی ہوئی تعلیم کچھ مغرور اور جاہل نسلوں تک نہ پہنچ سکی۔
ایرانی قیادت کے ان بیانات نے واضح کر دیا ہے کہ وہ امریکی دھمکیوں کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنی تاریخی جڑوں اور دفاعی صلاحیت پر بھروسہ رکھتے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


