تہران (13 جنوری 2026): ایرانی حکومت نے ملک میں حالات کنٹرول کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت مخالف مظاہروں کا زور ٹوٹ رہا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کا زور ٹوٹ رہا ہے اور حکومت نے حالات کنٹرول کرنے کا دعویٰ کر دیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنے لوگوں کی مشکلات دور کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ کچھ لوگوں نے دہشت گرد ملک میں داخل کیے، جنہوں نے مسجدیں جلائیں۔ ان کے پیچھے امریکا اور اسرائیل ہیں، جو وہاں بیٹھ کر لوگوں کو سکھاتے ہیں کہ تخریب کاری کرو ہم تمہارے پیچھے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کیلیے بیرون ملک سے دہشتگردوں کو لایا گیا۔ جنہوں نے لوگوں کو زندہ جلایا اور سر قلم کیے۔
مسعود پزشکیان نے والدین سے اپیل کرتے ہوئے کہا، وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں، انہیں سر کاٹنے اور قتل کرنے والوں میں شامل ہونے سے بچائیں۔
واضح رہے کہ ایران میں گزشتہ کئی روز سے جاری پرتشدد احتجاج میں درجنوں افراد جن میں سیکیورٹی ادارے کے لوگ بھی شامل ہیں، ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایرانی حکومت نے احتجاج اور فسادات میں 110 سے زائد سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، پاسداران انقلاب نے خراسان سے اسرائیلی ایجنسی موساد کے دو ایجنٹ گرفتار کر لیے، جو ملک کے مختلف شہروں میں فسادات اور ہنگامے کروا رہے تھے، جاسوسوں سے اسلحہ اور بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔
دوسری جانب امریکا نے پرتشدد مظاہروں کے بعد ایران پر براہ راست حملے کی دھمکی دے دی ہے جب کہ اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کا حکم بھی جاری کر دیا ہے۔
امریکا نے اپنے شہریوں کو ایران فوری طور پر چھوڑنے کی ہدایت کر دی
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


