The news is by your side.

Advertisement

ایرانی سائنسدان “محسن فخری زادہ” کے قتل میں کون سا ہتھیار استعمال ہوا؟ برطانوی جریدے کا بڑا انکشاف

تہران: برطانوی جریدے نے ایران کے ایٹمی سائنسدان محسن فخری زادہ کے قتل سے متعلق اہم انکشاف کرڈالا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق برطانوی جریدے جیوش کرونیکل نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ سال نومبر میں فخری زادے کے قتل میں ایک ٹن وزنی آٹومیٹیڈ گن استعمال ہوئی،جسے اسرائیلی انٹیلی جنس نے چھوٹےچھوٹے حصوں میں ایران اسمگل کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ایرانی شہریوں سمیت بیس اسرائیلی ایجنٹس نے گھات لگا کر ان پر حملہ کیا، ایٹمی سائنسدان کے قتل سے پہلے آٹھ ماہ ان کی جاسوسی بھی کی گئی۔

دوسری جانب اسرائیل نے جیوش کرونیکل کی رپورٹ پر تبصرے سے انکار کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال سات دسمبر کو ایران کے نیوکلیئر پروگرام کی انتہائی اہم شخصیت اور فادر آف نیوکلیئر پروگرام سمجھے جانے والے سائنس دان محسن فخری زادے کو انٹیلی جنس سیٹلائٹ سے لیس مشین گن کے زریعے نشانہ بنایا گیا تھا۔

محسن فخری زادے ایران کی امام حسین یونیورسٹی میں فزکس کے پروفیسر تھے، جو ایرانی وزارت دفاع کے اہم سائنسدان تھے، ایرانی خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ فخری زادے کو اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل کررکھا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  ‘ایرانی سائنسدان کے قتل میں اسرائیل ملوث

ایرانی وزیرخارجہ جوادظریف کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں نے نامور ایرانی سائنسدان کوقتل کیا، محسن فخری زادہ کے قتل میں اسرائیل کا کردارہوسکتا ہے، دنیابالخصوص یورپی یونین اسرائیل کی ریاستی دہشتگردی کی مذمت کرے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں