عہدید ارایرانی وزارت داخلہ نادر یاراحمدی نے کہا ہے کہ افغان تارکین وطن کی ملک بدری سے جرائم میں 30فیصد کمی ہوئی ہے۔
اس حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ ملک بدر افغان باشندوں کو واپسی کا خرچ خود ادا کرنا ہو گا افغان باشندوں کی واپسی پر 15لاکھ ریال فیس مقرر ہے۔
رضاکارانہ ایران چھوڑنے والوں کو کم پابندیوں اور سفری انتظامات کی سہولت دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا کہ ملک بدری کے بعد دوبارہ ایران آنیوالوں کو جرمانے اور عدالتی کارروائی کا سامنا ہو گا۔
ایران اور اسرائیل کے 12روزہ تنازع کے بعد افغان باشندوں کی بےدخلی میں تیزی آگئی ہے اور روزانہ اوسطاً 400 افغان باشندوں کو زبردستی یا رضاکارانہ واپس بھیجا جا رہا ہے۔ ایران میں مجموعی طور پر 61لاکھ افغان موجود تھے جن کی بڑی تعداد کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔
6 لاکھ سے زائد افغان باشندے افغانستان منتقل کردیئے، محکمہ داخلہ
نادر یاراحمدی کا کہنا ہے کہ ایران میں اس وقت تقریباً 50 لاکھ افغان باشندے مقیم ہیں، غیرقانونی افغانوں کیخلاف مہم میں 16لاکھ افراد کو ملک بدر کیا جا چکا، ملک بدری کےبعدایران میں افغان باشندوں کی تعداد تقریباً 45لاکھ رہ گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ 4 سے 5لاکھ افغان باشندے غیرقانونی طور پر ایران میں داخل اور خارج ہوتے رہتے ہیں تاہم حالیہ مہینوں میں غیرقانونی افغان باشندوں کی دوبارہ ایران میں داخلےکی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔



