اتوار, مئی 10, 2026
اشتہار

پاکستانی مارکیٹ میں ایرانی ریال کی قیمت میں اچانک بڑا اضافہ! 1 کروڑ کا بنڈل بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی : پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں ایرانی ریال قیمت میں اچانک بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور 1 کروڑ کا بنڈل 10 ہزار روپے تک پہنچ گیا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کی کرنسی مارکیٹ میں ان دنوں ڈالر یا پاؤنڈ نہیں بلکہ ‘ایرانی ریال’ موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔

حالیہ علاقائی کشیدگی اور سفارتی تبدیلیوں کے بعد اوپن مارکیٹ میں ایرانی ریال کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے سرمایہ کاروں اور سرحد پار تجارت سے وابستہ افراد کو حیران کر دیا ہے۔

پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں ایرانی ریال کی قیمت میں اچانک بڑا اضافہ! 1 کروڑ کا بنڈل کتنے ہزار روپے کا ہوگیا

پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں ایرانی ریال کی قیمت میں اچانک بڑا اضافہ! 1 کروڑ کا بنڈل بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

مارکیٹ ذرائع نے بتایا کہ چند ہفتے قبل تک ایرانی ریال کا جو بنڈل (ایک کروڑ ریال) محض 2,500 روپے میں دستیاب تھا، اب اس کی قیمت 10,000 روپے تک پہنچ چکی ہے، یہ غیر معمولی تیزی ریال کی بین الاقوامی قدر کے بجائے پاکستان کی مقامی اوپن مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی طلب کا نتیجہ ہے۔

سرمایہ کاروں کی ایک بڑی تعداد اس امید پر ریال جمع کر رہی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں بین الاقوامی پابندیاں ختم ہوں گی، جس سے ریال کی قیمت عالمی سطح پر بڑھے گی اور وہ قلیل مدت میں بڑا منافع کما سکیں گے۔

بلوچستان کے راستے ایران سے ہونے والی غیر رسمی تجارت (اسمگلنگ اور بارٹر ٹریڈ) ریال کی طلب کی سب سے بڑی وجہ ہے جبکہ پیٹرول، ڈیزل اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کی ادائیگی کے لیے نقدی (فزیکل نوٹ) کی ضرورت ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ڈیلرز من مانے ریٹ وصول کر رہے ہیں۔

پاکستانی اوپن مارکیٹ اور بین الاقوامی ریٹ میں زمین آسمان کا فرق دیکھا جا رہا ہے ، مقامی اوپن مارکیٹ مین 1 پاکستانی روپے کے بدلے تقریباً 1,000 ریال مل رہے ہیں جبکہ عالمی منڈی کے حساب سے 1 پاکستانی روپے کی قیمت تقریباً 4,732 ریال بنتی ہے۔

کرنسی ماہرین نے عوام کو متنبہ کیا ہے کہ ایرانی ریال کی یہ تیزی ایک "عارضی ببل” ثابت ہو سکتی ہے، اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھی تو قیمتیں اچانک گر سکتی ہیں۔

مارکیٹ میں ریال کی بڑھتی طلب کو دیکھتے ہوئے جعلی نوٹوں کی گردش کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے اور شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی منی چینجر کے بجائے صرف اسٹیٹ بینک سے منظور شدہ ایکسچینج کمپنیوں سے رجوع کریں تاکہ کسی بھی بڑے مالی نقصان سے بچا جا سکے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں