ایران نے امریکا سے جوہری مذاکرات پر جلدبازی نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اقتصادی اور بیرونی دباؤ کے باوجود جلد مذاکرات میں جانے سے انکار کر دیا۔
ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقی نے غیرملکی خبررساں ادارے کو انٹرویو میں کہا کہ امریکا سے مذاکرات صرف برابری کی بنیاد اور باہمی مفادات پر ممکن ہیں ہمارا مؤقف واضح ہے غیرمنصفانہ شرائط کے تحت مذاکرات ناممکن ہیں، امریکی شرائط غیرمنطقی اور غیرمنصفانہ ہیں ان پربات نہیں ہو سکتی۔
وزیرخارجہ نے دوٹوک کہا کہ اقوام متحدہ کی دوبارہ پابندیوں کے باوجود ایران کو مذاکرات میں جلدی نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خطے میں اسرائیل کے خلاف مشترکہ فہم ابھر رہا ہے نیتن یاہو جنگی مجرم ہے اس نے ثابت کیا اسرائیل ہی اصل دشمن ہے، اسرائیل کے خلاف خطے میں رائے مضبوط ہو رہی ہے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کا 400کلوگرام افزودہ یورینیم ملبے تلے دفن ہے یورینیم اس وقت تک نہیں نکالیں گے جب تک حالات سازگار نہ ہوں ہمیں نہیں معلوم کتنا یورینیم محفوظ ہےکتنا تباہ ہوا کھدائی کے بعد پتہ چلے گا۔
ادھر ایران کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے نائب سربراہ بریگیڈیئر جنرل احمد وحیدی نے کہا ہے کہ دشمن ایرانی سرزمین کی طرف میلی نظر ڈالنے کی جرأت بھی نہیں رکھتا۔
ایرانی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایران کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے نائب سربراہ بریگیڈیئر جنرل احمد وحیدی نے بندرعباس میں بحری زون کے دورے کے موقع پر کہا کہ اگر آج ایران کی آبی سرحدوں پر مکمل امن قائم ہے تو یہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے بحری جوانوں کی شبانہ روز قربانیوں اور کوششوں کے باعث ہے۔
رپورٹس کے مطابق جنرل وحیدی نے مزید کہا کہ دشمن ایرانی جوانوں سے خوفزدہ ہیں اور اس سرزمین پر بری نظر ڈالنے کی ہمت نہیں کرسکتے۔


