بدھ, جولائی 15, 2026
اشتہار

ایران کے میزائلوں کے بارے میں کوئی دوسرا ملک گفتگو کرے یہ بالکل پسند نہیں، اسماعیل بقائی

اشتہار

حیرت انگیز

تہران (18 جون 2026): ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت کے جامع متن پر ایران اور امریکا دونوں کے صدور نے دور سے دستخط کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں جنگ کے خاتمے سے متعلق یہ معاہدہ مکمل طور پر قانونی طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی ملاقات معاہدے پر دستخط کے لیے نہیں، سوئٹزرلینڈ میں ملاقات ہوگی یا نہیں، اگلے چند گھنٹوں میں فیصلہ متوقع ہے، تاہم جنیوا میں مذاکراتی ٹیموں کی شرکت بدستور شیڈول کے مطابق رہے گی۔

اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ ہمارے پاس افزودہ یورینیم کو کم درجے پر لانے کا آپشن موجود ہے، ایرانی جوہری مواد ملک سے باہر نہیں بھیجا جائے گا، ایران کے میزائل پروگرام پر مذاکرات نہیں کیے جا سکتے، ایران کے میزائلوں کے بارے میں کوئی دوسرا ملک گفتگو کرے یہ بالکل پسند نہیں۔


امریکا اور ایران کے صدور نے مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کر دیے


انھوں نے کہا آبنائے ہرمز میں جہازوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے بدلے فیس وصول کی جائے گی، اور 60 دنوں میں دوسرے فریق کو خطے میں فوجی موجودگی میں اضافہ نہیں کرنا چاہییے، نہ ہی دوسرے فریق کو نئی پابندیاں عائد کرنی چاہئیں۔

ترجمان نے کہا ایران پر عائد تیل کی پابندیاں ختم ہونی چاہئیں، ایران کو آج سے آئندہ 60 دنوں تک اپنا تیل فروخت کرنے کی اجازت ملنی چاہیے، امریکا پابند ہے کہ ایران کے منجمد اثاثوں تک رسائی کے سلسلے میں رکاوٹیں دور کرے۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں