The news is by your side.

Advertisement

جنرل سلیمانی کا قتل؛ ایرانی وزیر خارجہ کا جائے وقوعہ کا دورہ

بغداد: ایران کے وزیر جارجہ جواد ظریف فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کے امریکی حملے میں قتل کے بعد پہلی عراق پہنچ گئے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق دورہ عراق کے دوران ایرانی وزیر خارجہ بغداد کے اس انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے مقام پر گئے جہاں رواں سال جنوری میں جنرل سلیمانی اور ان کے ساتھیوں کو امریکی ڈرون نے نشانہ بنایا تھا۔

ایرانی وزیرخارجہ نے بغداد میں عراقی ہم منصب سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات، باہمی تعاون، خطے کی صورتحال اور عراق میں حکومت کی تشکیل نو کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزرائے خارجہ نے عراق کی خودمختاری و سلامتی کو خطے میں امن و خوشحالی کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے علاقائی سیکورٹی اور ترقی سمیت میں باہمی تعاون پر زور دیا۔

ایرانی وزیر خارجہ عراقی صدر، وزیراعظم، پارلیمنٹ کے اسپیکر، اعلیٰ افسران اور اہم شخصیات سے ملاقاتیں بھی کریں گے جس میں دوطرفہ تعلقات اور مستقبل میں سرمایہ کاری ایجنڈے میں سرفہرست ہے۔

خیال رہے کہ رواں سال 3 جنوری امریکا نے ڈرون حملے کے ذریعے ایرانی قدس فورس کے سربراہ کو ہلاک کیا تھا، واشنگٹن حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ قاسم سلیمانی مشرقی وسطیٰ میں امریکی فوج پر حملوں میں ملوث رہا ہے۔

انسانی حقوق برائے اقوام متحدہ کے آزاد تفتیشی اہلکار کالمارڈ نے امریکی ڈرون حملےمیں ایرانی جنرل کی ہلاکت کو غیرقانونی عمل قرار دیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں