site
stats
عالمی خبریں

عراقی افواج نے تلعفر میں قدم جمالیے

Tal Afar

بغداد: عراق کے فوجی دستوں نے داعش کے خلاف فیصلہ کن محاذ شروع کرتے ہوئے تلعفر نامی شہر کے مغربی محلوں میں دہشت گردوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنے کے بعد مورچے سنبھال لیے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق عراقی فوج تلعفر میں داخل ہو کر اعلان کیا ہے کہ ترکمان شہر تلعفر میں دہشت گرد تنظیم داعش کے ٹھکانوں میں شگاف ڈال دیے گئے ہیں۔

فوجی دستوں نے شہر کے مغربی محلوں میں دہشت گردوں کو الٹے قدم پیچھے ہٹنے پر مجبور کرتے ہوئے مورچے سنبھال لیے ہیں‘ ایک کمانڈر کا کہنا ہے کہ شہر میں سے داعش کی جانب سے راکٹ حملے اور خود کش حملے کیے جارہے ہیں ‘ تاہم عراقی افواج کو کامیابیاں مل رہی ہیں۔

داعش دہشت گردتنظیم ہے، پاکستان کا دشمن عراق کا دشمن*

یاد رہے کہ عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کے حکم پر یہ فیصلہ کن معرکہ اتوار کے روز شروع کیا گیا تھا اور وزیراعظم کے مطابق لگ بھگ 40‘ ہزار شہریوں کے درمیان دو ہزار داعش کے دہشت گرد موجود ہیں جنہوں نے شہر کو یرغمال بنا کر رکھا ہوا ہے‘ لیکن اب یا تو وہ ہتھیار ڈالیں گے یا مارے جائیں گے۔

تلعفر کی آبادی بنیادی طور پر ترکمان ہے اور دو ہزار چودہ میں دہشت گردوں کے ہاتھ میں جانے سے قبل یہاں کی آبادی لگ بھگ دو لاک نفوس پر مشتمل تھی۔

یہ شہر داعش کی سپلائی لائن کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ شامی علاقوں سے عراقی شہر موصل تک سپلائی یہی سے جاتی تھی‘ تاہم عراقی افواج موصل کو پہلے ہی فتح کرچکی ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top