The news is by your side.

Advertisement

بغداد کی سڑکوں پر سائیکل چلاتی لڑکیاں

بغداد: جینز اور ٹی شرٹ میں ملبوس، کھلے بالوں کو ہوا میں لہراتی اس لڑکی کا نام مرینہ جابر ہے، مگر بغداد کے لوگ اسے سائیکل سوار لڑکی کے نام سے جانتے ہیں۔

ایک آرٹ پروجیکٹ کے تحت مرینہ کا سڑکوں پر سائیکل سواری کرنا پہلے سوشل میڈیا پر موضوع بحث اور تنقید و تضحیک کا نشانہ بنا، بعد ازاں یہ ایک سماجی تحریک کی شکل اختیار کر گیا۔

iraq-3

اب بغداد میں ہر صبح بے شمار لڑکیاں سائیکلوں کے ساتھ جمع ہوتی ہیں، اور سائیکل پر پورے شہر میں گشت کرتی ہیں۔

لڑکیوں کا سائیکل چلانا معیوب

عراق کے کسی حد تک قدامت پسند معاشرے میں دارالحکومت بغداد میں بھی لڑکیوں کا سائیکل چلانا معیوب خیال کیا جاتا ہے۔ سائیکل پر سفر کرنے والی خواتین آس پاس کے تمام افراد کی مرکز نگاہ بن جاتی ہیں جو انہیں کسی عجوبے کی طرح دیکھتے ہیں۔

مرینہ کہتی ہے، ’یہ صرف ایک سائیکل ہے، اور کچھ نہیں۔ اسے ہوا بنانے کے بجائے عام چیزوں کی طرح دیکھنا چاہیئے‘۔

iraq-2

وہ اپنے ہم وطنوں سے پوچھتی ہے، ’کیا معاشرے نے کچھ مخصوص کاموں کو کرنے کا حق ہم (خواتین) سے چھین لیا ہے؟ یا انہوں نے اسے اس لیے رد کردیا ہے کیونکہ ہم نے ایک طویل عرصے سے انہیں کرنا چھوڑ دیا ہے‘؟

مرینہ بتاتی ہے کہ کئی عشروں قبل ان کی دادی اور والدہ نے ان سڑکوں پر سائیکل چلائی ہے۔ ’جب اس وقت اسے معیوب خیال نہیں کیا گیا، پھر اب کیوں‘؟

خواتین کی خود مختاری کا استعارہ

جلد مرینہ ملک بھر میں خواتین کے لیے ایک مثال بن گئیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ انہیں ملک بھر سے لاتعداد پیغامات موصول ہوئے جو زیادہ تر لڑکیوں اور خواتین کے تھے۔ یہ خواتین اپنی مرضی سے اپنی زندگی جینا چاہتی تھیں مگر معاشرے کے خود ساختہ مروجہ اصولوں کو توڑنے کا حوصلہ نہیں رکھتی تھیں۔

مرینہ کی سرخ سائیکل اب ایک استعارہ بن چکی ہے جسے آرٹ کی متعدد نمائشوں میں بھی رکھا جا چکا ہے۔

وہ کہتی ہے، ’عراق میں سائیکل چلانا کوئی جرم نہیں ہے۔ دراصل ہم جنگ کی وجہ سے بہت سی چیزوں کو بھول گئے ہیں۔ ہمیں اگر کچھ یاد ہے تو صرف موت‘۔

داعش کے خلاف کھلی للکار

دارالحکومت بغداد سے 400 کلومیٹر دور داعش کے زیر قبضہ علاقہ موصل میں مرینہ کی ہم آواز جمانا ممتاز تھیں جو پیشے کے لحاظ سے ایک صحافی ہیں۔

انہوں نے مرینہ کے اقدام کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے اپنی سائیکل چلاتی ہوئی تصویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی۔

iraq-4

جمانا کے شہر موصل کے ایک تہائی سے زائد علاقے پر شدت پسند تنظیم داعش کا قبض ہے۔ بقول ان کے انہوں نے موصل میں سائیکل چلا کر داعش کے شدت پسند نظریات اور خیالات کو اعلانیہ للکارا ہے اور یہ ان کی شدت پسندی کے خلاف اعلان جنگ ہے۔

وہ کہتی ہیں، ’صرف داعش ہی نہیں عراق کے بے شمار عام افراد بھی سمجھتے ہیں کہ خواتین کو اپنی مرضی کا کوئی قدم اٹھانے کا حق نہیں ہے‘۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد سے خنجراب تک کا سفر سائیکل پر

وہ کہتی ہیں کہ انہیں اور مرینہ کو بے شمار ایسے الفاظ سننے پڑتے ہیں جن میں ناگواری، ناپسندیدگی اور ان کے لیے نفرت کا اظہار ہوتا ہے۔

لیکن ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو انہیں سائیکل چلاتا دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ ان میں کچھ معمر افراد بھی ہیں جو انہیں دیکھ کر کہتے ہیں، ’آہ! یہ وہ بغداد ہے جسے ہم کبھی دیکھتے تھے‘۔

iraq-5

مرینہ کا کہنا ہے کہ کئی افراد نے انہیں پیشکش کی کہ وہ ان کے ساتھ شامل لڑکیوں کو سائیکلیں فراہم کرنا چاہتے ہیں۔

جمانا اور مرینہ کا عزم ہے، ’ہم چاہتے ہیں کہ لڑکیاں اب خوفزدہ نہ ہوں۔ ہم مل اس حقیقت کو تبدیل کردیں گے جہاں صرف جنگ، موت اور تعصب ہے‘۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں