ہفتہ, مارچ 7, 2026
اشتہار

وزیرِاعظم کون ہوگا یہ فیصلہ صرف عوام نے کرنا ہے ٹرمپ نے نہیں، عراقی مظاہرین

اشتہار

حیرت انگیز

بغداد(29 جنوری 2026): امریکی صدر ٹرمپ کی نوری المالکی کو وزیرِا عظم بنانے پر دھمکی کے خلاف بغداد میں مظاہرہ جاری ہے۔

گزشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے لیے حمایت رکھنے والے نورالمالکی کو وزارت عظمی کے لیے منتخب کیا گیا تو عراق کے لیے امریکی امداد مزید جاری نہ رہے گی۔

بدھ کی شام مرکزی بغداد میں گرین زون کے قریب سینکڑوں عراقیوں نے مظاہرہ کیا، جس میں نئی حکومت کی تشکیل کے معاملے پر مبینہ امریکی مداخلت کی مذمت کی گئی۔

مظاہرین نے سسپنشن برج کے قریب جمع ہو کر امریکا کے خلاف نعرے لگائے، جہاں سے امریکی سفارتخانے کی طرف جانے والی سڑک کا داخلہ ہے، اور عراق کی خودمختاری کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔

مظاہرہ کرنے والے عباس عتیوی نے کہا کہ”ہم عراقی عوام کے اپنا مستقبل بنانے کے فیصلے میں کسی بھی قسم کی غیر ملکی مداخلت کو مسترد کرتے ہیں۔”مظاہرین کا کہنا ہے کہ وزیرِا عظم کون ہو گا، یہ فیصلہ صرف عراقی عوام نے کرنا ہے، ٹرمپ یا کسی اور نے نہیں۔

مظاہرین نے امریکی صدر کے بیان کو عراق کی خودمختاری کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے، واضح کیا کہ عراق کے فیصلے صرف اس کے عوام کریں گے۔

یہ احتجاج واشنگٹن اور بغداد کے درمیان بیان بازی میں شدید اضافے کے نتیجے میں ہوا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو دھمکی دی تھی کہ اگر سابق عراقی وزیراعظم نوری المالکی دوبارہ اقتدار میں آئے تو امریکا "عراق کی مزید مدد نہیں کرے گا”۔

نوری المالکی نے بدھ کو "امریکی کھلی مداخلت” کو مسترد کرتے ہوئے اسے عراقی خودمختاری کی خلاف ورزی، 2003 کے بعد قائم کردہ جمہوری نظام کی خلاف ورزی، اور کوآرڈینیشن فریم ورک (سی ایف) کے وزیراعظم کے امیدوار کے انتخاب کے فیصلے میں مداخلت قرار دیا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں