The news is by your side.

Advertisement

عراق: داعش سے وابستہ 29 غیر ملکی خواتین کو عمر قید کی سزا

بغداد : عراق کی ملٹری کورٹ نے دولت اسلامیہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں سے تعلق رکھنے کے جرم میں 19 روسی جبکہ آذربائیجان اور ازبکستان کی 10 خواتین کو عمر قید کی سزا سنا دی۔

تفصیلات کے مطابق عراق میں سیکیورٹی اہلکاروں نے داعش سے روابط اور رکن ہونے کے شبے میں 19 روسی جبکہ آذربائیجان اور ازبکستان سے تعلق رکھنے والی دس خواتین کو الزام ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ عراق کی سپریم ملٹری کورٹ کے جج نے مذکورہ خواتین کو الزام ثابت ہونے پر سزا سنائی ہے جج نے دوران سماعت کہا کہ ’خواتین نے عراق آکر دہشت گردوں کی معاونت کے لیے داعش میں شمولیت اختیار کی تھی‘۔

عرب میڈیا کا کہنا تھا کہ 29 مئی کو ہی فوجداری عدالت نے آذربائیجان اور ازبکستان کی بھی دس کو خواتین کو دہشت گردی اور داعش میں شمولیت کے جرم میں عمر قید کی سزائیں دی گئی ہیں، عراقی عدالت سے سزا پانے والی اکثر شدت پسند خواتین کے ہمراہ چھوٹے بچے بھی ہیں۔

عراقی عدالت کا کہنا تھا کہ عمر قید کی سزا پانے والی خواتین مذکورہ فیصلے کے خلاف درخواست دائر کرنے کا حق رکھتی ہیں۔

فوجداری عدالت میں خواتین کے خلاف فیصلے کے وقت روسی سفارتکار بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے، سفارتکار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’روسی قونصل خانہ سزا پانے والی خواتین کے والدین سے بات کرکے آگاہ کرے گا‘۔

یاد رہے کہ سنہ 2014 میں دہشت گرد تنظیم نے عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل سمیت ایک تہائی علاقے پر قبضہ کرلیا تھا۔ جسے عراقی افواج اور عوامی رضاکار فورس نے گذشتہ برس آزاد کرواکر فتح کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ دولت اسلامیہ کے خلاف آپریشن کے دوران 550 سے زائد خواتین اور 600 سے زائد بچوں کو بھی عرقی افواج کی جانب سے داعش سے تعلق اور دہشت گردوں کے رشتہ دار ہونے کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا تھا۔

عراق کی سپریم ملٹری کورٹ کی جانب سے حراست میں لیے جانے والے خواتین اور بچوں کے خلاف بہت تیزی سے فیصلے کرکے سزائیں سنارہی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق عراقی فورسز نے داعش سے تعلق اور تنظیم کا رکن ہونے کے شبے میں تقریباً 20 ہزار سے زائد افراد کو جیلوں میں قید کیا ہوا ہے، تاہم حکومت کی جانب سے سرکاری سطح پر کسی قسم کے اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔

عرب میڈیا کا کہنا تھا کہ عراق کی فوجداری عدالتیں دولت اسلامیہ سے روابط سے الزام میں درجنوں غیر ملکیوں سمیت 300 سے زائد افراد کو سزائے موت دے چکی ہے۔

عراق کی فوجداری عدالت کے جج کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت ملک میں دہشت گرد کاررائیوں میں ملوث شدت پسندوں کی معاونت کرنے والے افراد کو بھی سزائے موت دی جائے گی، اگرچہ وہ کسی حملے میں براہ راست ملوث نہ بھی ہوں۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کا کہنا تھا کہ عراقی عدالت کی جانب سے سخت فیصلوں کی یہ تازہ کڑی ہے جو دولت اسلامیہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں سے تعلق رکھنے والی غیر ملکی خواتین کے خلاف جاری کیے گئے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں