The news is by your side.

Advertisement

عرفان خان کا متنازعہ بیان، علما کا منہ بند رکھنے کا مشورہ

ممبئی: بالی وڈ اداکار عرفان خان کے مذہبی عقائد کے حوالے سے تنقیدی بیان پر مذہبی رہنماؤں نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے عرفان خان کو صرف ایکٹنگ پر توجہ مرکوز رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی اخبار کے مطابق عرفان خان نے جے پور میں اپنے متنازعہ خیالات کا اظہار کیا۔ وہ وہاں اپنی فلم ’مداری‘ کی تشہیری تقریب میں شریک تھے۔

عرفان خان نے کہا، ’رمضان میں روزے رکھنے کے بجائے لوگوں کو خود پر قابو رکھنا سیکھنا چاہیئے۔ محرم کے دوران قربانی کے نام پر جانوروں کو ذبح کیا جاتا ہے۔ ہم مسلمانوں نے محرم کا مذاق بنا لیا ہے۔ اس ماہ میں غم منانا چاہیئے اور ہم کیا کرتے ہیں، جلوس نکالتے ہیں‘۔

عرفان نے اس بیان کے ذریعہ مسلمانوں کے عقائد پر تنقید اور مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہوئے ایک نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔

بالی وڈ ستارے دنیا کے ’بور ترین‘ افراد قرار *

عرفان کے متنازعہ بیان کے بعد جماعت علمائے ہند کے ریاستی سیکریٹری مولانا عبدل واحد کھتری نے انہیں مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ مسلمانوں کے مذہبی عقائد پر توجہ دینے کے بجائے اپنے کیریئر پر توجہ دیں۔

انہوں نے کہا، ’بہتر ہے کہ عرفان اپنے فلمی کیریئر پر توجہ دیں اور مذہب کے حوالے سے بیانات دینا بند کریں۔ عرفان ایسے بیانات اپنی آنے والی فلم کی تشہیر کے لیے دے رہے ہیں‘۔

جے پور کے شہر قاضی (چیف جیورسٹ) خالد عثمانی نے کہا کہ عرفان کو چاہیئے کہ اپنا منہ بند رکھیں کیوں کہ انہیں مذہب اسلام کے بارے میں کچھ علم نہیں‘۔

عرفان خان متنازعہ بیان دیتے ہوئے یہ بھول گئے کہ قربانی محرم میں نہیں بلکہ عید الاضحیٰ کے موقع پر کی جاتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں