آئرلینڈ: سینیٹ نے اسرائیلی اشیاء پر پابندی کی تجویز کی حمایت کا اعلان کردیا boycotting-israeli
The news is by your side.

Advertisement

آئرلینڈ: سینیٹ نے اسرائیلی اشیاء پر پابندی کی تجویز کی حمایت کا اعلان کردیا

ڈبلن : آئرلینڈ کے ایوان بالا نے خاتون سینیٹر کی جانب سے اسرائیلی منصوعات کی درآمدات پر پابندی عائد کرنے کی تجویز کی حمایت کا اعلان کردیا۔ جسے اسرائیل نے خوفناک اور انتہا پسندانہ اقدام قرار دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق آئرلینڈ کے ایوان بالا میں آزاد سینیٹر کی جانب سے آئرلینڈ میں فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں بننے والی تمام اشیاء کی درآمدات پر پابندی کی تجویز پیش کی گئی ہے، جس کی متفقہ طور پر ملک کی حکمران جماعت سمیت دیگر جماعتوں نے بھی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ آئرش سینیٹ کی جانب سے خاتون سینیٹر کے مجوزہ قانون کی منظوری کا اعلان کردیا گیا ہے، جس کے بعد اسرائیلی حکام کی جانب سے آئرش سینیٹ کے مذکورہ قانون کو ’خوفناک اور انتہا پسندانہ اقدام‘ قرار دیا ہے۔

دوسری جانب فلسطین کی آزادی پسند تنظیموں نے آئرلینڈ کے اسرائیلی منصوعات پر پابندی عائد کیے جانے اقدام کو خوب سراہا ہے اور اسے آئرش سینیٹ کا مثبت اقدام قرار دیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق آئرش حکومت کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے خلاف ایسا قدم اٹھانے سے یورپی یونین کے مابین تجارتی مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے،جبکہ اس سے قبل کسی بھی یورپی یونین کے رکن ملک نے تنہا اس طرح کا کوئی اقدام نہیں کیا۔

آئرش حکومت کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات اٹھانے سے خطے میں آئرلینڈ کی حکومت کے اثر و رسوخ میں بھی کمی واقع ہوگی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ آئرش سینیٹ میں ’کنٹرول آف اکانومک ایکٹیویٹی‘ کے نام سے پیش کی جانے والی تجویز کو 45 میں سے 5 ارکان نے ووٹ دے کر حمایت کا اعلان کردیا ہے، جس کے بعد سینیٹ کمیٹی مجوزی قانون کی منظوری دے دی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ آئرلینڈ کی حکومت کی کوشش ہے کہ سینٹ کمیٹی میں مذکورہ تجویز کو قانون کا حصّہ نہ بننے دیا جائے۔

آئرلینڈ کی آزاد سینیٹر فرانسس بلیک کا کہنا ہے کہ ’فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں غاصب اسرائیلی آبادیاں بنانا ’جنگی جرم‘ ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’اسرائیلی جرائم کا معاملہ سب پر واضح کردیا ہے تاہم ابھی بھی لمبا فاصلہ طے کرنا باقی ہے‘۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق آئرلینڈ اور اس کی عوام ہمیشہ انسانی حقوق اور بین الااقوامی قوانین کی پاسداری کرے گا اور انصاف کا ساتھ دے گا۔

آئر لینڈ کے وزیر خارجہ نے غیر ملکی خبر رساں اداروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’خاتون سینیٹر کی تجویز اور سینیٹ کے فیصلے کا مکمل احترام کا قائل ہوں، پھر بھی ملکی مواد کی خاطر مجوزہ قانون سے متفق نہیں ہوسکتا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں