The news is by your side.

Advertisement

دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی کو نظر انداز نہ کریں، ماہرین نے خبردار کردیا

عالمی وبا کرونا کے آغاز سے ہی ماہرین اس سے متاثر ہونے والے مریضوں کی نظام صحت پر متعدد ریسرچ کرچکے، حال ہی میں ایک اور تحقیق نے پریشانی میں اضافہ کردیا ہے۔

امریکا کی سالٹ لیک سٹی کے انٹرماؤنٹین ہیلتھ کیئر میں کی جانے والی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی کے عارضے کا سامنا کرنے والے افراد اگر کووڈ 19 سے متاثر ہوجائیں تو ان میں سنگین پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے لیے 3119 ایسے مریضوں کو شامل کیا گیا جن میں مارچ 2020 سے مئی 2021 کے دوران کووڈ کی تشخیص ہوئی تھی اور ان میں دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی کے عارضے کی تاریخ بھی تھی۔

محققین نے دریافت کیا کہ ایسے مریضوں میں دیگر کووڈ سے متاثر افراد کے مقابلے میں سنگین پیچیدگیوں کی شرح زیادہ تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں ہارٹ اٹیک سے متعلق اہم انکشاف

تحقیق کے مطابق دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی کی تاریخ رکھنے والے کووڈ مریضوں میں ہارٹ فیلیئر یا دل کی شریانوں سے جڑے کسی بڑے مسئلے کے باعث ہسپتال میں داخلے کا خطرہ 61.5 فیصد اور موت کا امکان 40 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

ان نتائج کی بنیاد پر محققین کا کہنا تھا کہ دھڑکن کے مسائل سے دوچار کووڈ کے مریضوں کو زیادہ خطرے والی کیٹیگری میں شامل کیا جانا چاہیے اور خود ایسے مریضوں کو احتیاطی تدابیر جیسے ویکسنیشن، فیس ماسک پہننا اور سماجی دوری وغیرہ پر عمل کرنا چاہیے۔

اس تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے بلکہ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے 2021 سائنٹیفک سیشنز میں پیش کیے گئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں