The news is by your side.

Advertisement

کراچی کے ضلع وسطی میں سائنو فام ویکسین کا غیر منصفانہ استعمال ثابت ہوگیا

کراچی :ضلع وسطی میں سائنو فام ویکسین کا غیر منصفانہ استعمال ثابت ہوگیا ، تحقیقاتی کمیٹی نے رپورٹ محکمہ صحت کو جمع کرادی، جس میں آفس اسسٹنٹ کو معطل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے ضلع وسطی میں سائنو فام ویکسین کا غیر منصفانہ استعمال ثابت ہوگیا، جس کے بعد تحقیقاتی کمیٹی نے آفس اسسٹنٹ کو معطل کرنے کی سفارش کردی ہے۔

تحقیقاتی کمیٹی نے ڈی ایچ او ضلع وسطی ڈاکٹر مظفر اوڈھو کو بھی غفلت کا مرتکب قرار دیا اور رپورٹ محکمہ صحت کو جمع کرادی ہے۔

تحقیقاتی کمیٹی نے کہا ہے کہ سائنو فام ویکسین کے ایسے وائلز ملے، جن میں نیشنل ایمونائزیشن سروس میں ریکارڈ موجود نہیں تھا ، کمیٹی کے رو بہ رو آفس اسسٹنٹ نے غیر منصفانہ ویکیسن کے استعمال کو تقسیم کیا، آفس اسسٹنٹ کو کورونا ویکسین کے امور سے روکا جائے۔

تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق ڈی ایچ او کی جانب سے ویکسین کے استعمال کو شفافیت بنانا لازمی تھاجس پر وہ ناکام رہے۔

خیال رہے ڈاکٹر حراظہیر نے سیکریٹری صحت کو سائنو فام ویکسین کے گھروں کو لگانے کی شکایت کی تھی اور انہوں نے سکریٹری صحت کو اپنی ایک تحریری درخواست میں آگاہ کیا تھا ، درخواست میں ڈاکٹر حرا نے بتایا تھا کہ چین کی ویکسین سائنوفام کم عمر افراد کو لگانے کے احکامات موصول نہیں ہوئے لیکن ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ضلع وسطی بعض اہلکار سرکاری ویکسین کم عمر کے افراد کو بھاری رقوم کے عوض گھر گھر جاکر لگارہے ہیں۔

ڈاکٹر حرا نے انکشاف کیا تھا کہ ضلع وسطی کے بعض اہلکار منظم انداز میں سرکاری ویکسین سائنوفام کو رقم لے کر 18 سے 25 سال کے عمر کے افراد کو لگارہے ہیں، اور اندراج میں عمریں تیس سال سے زائد بتائی جارہی ہیں، پیسے لے کر ویکسین لگانے کا علم ہوا تو متعلقہ اہلکاروں سے کو آڑے ہاتھوں لیا،جس پران اہلکاروں نے مجھے زدوکوب کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں