The news is by your side.

Advertisement

کیا کوروناوائرس جانورں سے پھیلا؟ تہلکہ خیز انکشافات

برطانیہ میں ہونے والی تحقیق میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ کوروناوائرس کے انسانوں میں پھیلاؤ کا اصل ماخذ پینگولین ہوسکتا ہے، مشاہدے کے دوران دیگر اہم دریافتیں بھی ہوئی ہیں۔

برطانیہ کی اسٹرکچرل بائیولوجی آف ڈیزیز پراسیس لیبارٹری میں ہونے والی تحقیق کے مطابق ‘کوروناوائرس پینگولین نامی جانور سے چھلانگ لگا کر انسانوں میں پھیلا’ جیسا خیال قابل قبول ہوسکتا ہے۔

تحقیق کے دوران ماہرین نے کوروناوائرس کے اسپائیک پروٹین کی ساخت کا موازنہ چمگادڑ اور پینگولین میں پائے جانے والے وائرس سے کیا، اس دوران دو اہم باتیں سامنے آئیں وہ یہ تھیں کہ چمگادڑ میں پایا جانے والا وائرس پینگولین کو متاثر نہیں کرسکا جبکہ پینگولین میں موجود وائرس میں انسانوں کو شکار کرنے کی صلاحیت دیکھی گئی۔

Image result for پینگولین اور چمگادڑ

تحقیق کے مطابق اس اہم دریافت کے بعد اس خیال کو تقویت ملی کہ پینگولین سے ہی وائرس انسانوں تک منتقل ہوا ہے، اس تحقیق کے نتائج تک پہنچنے کے لیے کرائیو الیکٹرون مائیکرو اسکوپی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پنگولین کے وائرس میں موجود اسپائیک پروٹین انسانوں میں پائے جانے والے وائرس سے بہت ملتے جلتے تھے تاہم کچھ پروٹین مختلف بھی تھے، چمگادڑوں میں موجود کورونا وائرس RaTG13 انسانوں یا پینگولینز کے ریسیپٹر جکڑ نہیں سکتا اور پینگولین میں موجود وائرس اس جانور اور انسانوں کے ریسیپٹر جکڑ سکتا ہے۔

کوروناوائرس کا آغاز کیسے اور کہاں سے ہوا؟ عالمی ادارہ صحت حقیقت تک پہنچ گیا

محققین کا کہنا ہے کہ پینگولین سے وائرس کا انسانوں میں پھیلاؤ کے شواہد حتمی نہیں ہیں۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وائرس پہلے چمگادڑ سے پنگولین میں آیا اور وہاں سے انسانوں میں پھیلا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز عالمی ادارہ صحت نے چین میں ہونے والی تحقیقات کے بعد انکشاف کیا کہ کورونا وائرس لیبارٹری میں تیار نہیں ہوا بلکہ یہ کسی جانور یا منجمد وائلڈ لائف مصنوعات سے انسانوں میں پھیلا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او) نے چین کی لیبارٹی میں کوروناوائرس تیار کرنے کے الزامات کو مسترد کیا اور بتایا کہ ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جس کی بنیاد پر یہ کہا جائے کہ وائرس لیبارٹی میں تیار ہوا بلکہ مہلک وبا کسی جانور یا منجمدوائلڈ لائف مصنوعات سے پھیلی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں