The news is by your side.

Advertisement

کیا 3 اور 13 منحوس اعداد ہیں؟ ان تاریخوں میں شادی کرنی چاہیے؟

لوگوں میں طرح طرح کے توہمات عام ہیں اور شادی کے حوالے سے تو بہت زیادہ ہیں، ابھی شادی ہوتی ہی نہیں اس سے پہلے ہی طرح طرح کی من گھڑت ممنوعات سامنے آجاتی ہیں، ایسا ہی ایک مسئلہ کچھ ان پڑھ یا کم معلومات کے حامل حلقوں میں عام ہے کہ کچھ دن منحوس ہوتے ہیں جن میں شادی کرنا درست نہیں، کچھ لوگوں کے نزدیک یہ تین اور تیرہ کی تاریخیں ہیں۔

اسی حوالے سے اے آر وائی کیو ٹی وی کے پروگرام ’’آپ کے مسائل کا حل ‘‘میں مفتی ابوبکر نے ایک سائل کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کوئی دن نحوست کا حامل نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی تاریخ میں کوئی نقص یا نقصان ہے لہذا کسی بھی دن یا تاریخ کو اپنے اہم امور جیسے شادی بیاہ سر انجام دیے جاسکتے ہیں۔

ایک خاتون نے مفتی صاحب سے سوال کیا کہ ان کی بیٹی کی شادی کی تاریخ رکھی جا رہی ہے تو کیا 03 یا 13 تاریخ رکھنے پر کسی قسم کی نحوست یا بد شگونی کا احتمال رہتا ہے؟

اسلام میں کوئی دن اور تاریخ نحوست کا حامل نہیں

مفتی ابو بکر نے سائل خاتون کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسلام میں کوئی بھی دن اور تاریخ نحوست کی حامل نہیں اور نہ ہی کوئی برا یا اچھا دن ہوتا ہے اس حوالے سے مشہور تمام باتیں بے بنیاد اور تمام قصے من گھڑت ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

تین یا تیرہ کا منحوس ہونا غیر مسلموں کے عقائد ہیں

مفتی ابوبکر نے مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ 03 یا 13 تاریخ کو منحوس یا بد شگون تصور کرنا غیر مسلموں کی روایت ہو سکتی ہے مسلمانوں کی نہیں۔

کئی عمارات میں تیرہویں منزل نہیں ہوتی

انہوں نے کہا کہ 13 کے عدد کے حوالے سے تو یہ بات بھی مشہور ہے کہ انگریز اس عدد کو منحوس قرار دے کر کسی بھی اچھے کام کی شروعات اس تاریخ نہیں کرتے نہیں حتی کہ کئی پلازا ایسے ہیں جن میں 13 ویں منزل ہی نہیں بلکہ 12 کے بعد 14 ویں منزل آجاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 03 اور 13 کو منحوس قرار دینے والے انہی تہذیبوں سے مرعوب ہوتے ہیں یا کم علمی کے باعث ایسا کر گذرتے ہیں اس لیے تمام مسلمانوں کو یہ جان لینا ضروری ہے کہ اسلام میں کوئی دن یا تاریخ منحوس نہیں ہے البتہ کچھ دن اور راتیں افضل ضرور ہیں جیسے جمعہ کا دن اور شب قدر کی راتیں نہایت متبرک ہیں تواگراپنے اہم اور اچھے کاموں کا آغاز ان دنوں میں کیا جائے تو برکت کے حصول کا باعث ہوسکتا ہے۔


Shadi Kay Liye Mkhsos Tareekh Rakhnay Ki Haqeeqat by aryqtv


نوٹ : ایسے دیگر مسائل سے آگاہی حاصل کرنے کے لیے* فیس بک پر ہمارے صفحے اے آر وائی کیو ٹی وی کو لائیک کیجیے

جب کہ اپنے سوالات براہ راست بھیجنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔


Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں