The news is by your side.

Advertisement

ایئر کوالٹی انڈیکس بڑھنے کی اہم وجہ سامنے آگئی

آتش بازی دنیا بھر میں جشن کی علامت بن چکی، نئے سال کے جشن سے لے کر یومِ آزادی تک کئی تقریبات میں آتش بازی کا مقصد آسمان بقعہ نور بن جانا ہے۔

مگر ماحولیات سے متعلق بڑھتے شعور کے باعث آتش بازی کے نقصانات بھی واضح ہورہےہیں، نقصان دہ پلاسٹک اور کیمیائی مادّوں سے تیار کردہ آتش بازی کا سامان نہ صرف زمین پر آلودگی پیدا کرتا ہے بلکہ فضا میں موجود آکسیجن کو بھی بدترین بنادیتا ہے۔

بھارت میں مذہبی تہواروں میں سب سے نمایاں چیز “آتش بازی” ہی ہوتی ہے مگر گذشتہ سال نومبر میں کرونا وائرس وبا کے دوران فضائی آلودگی میں اضافے کے خدشے کے سبب بھارت میں کئی ریاستوں اور دارالحکومت نئی دہلی میں دیوالی پر آتش بازی کرنے پر پابندی لگادی گئی تھی، آتش بازی پر پابندی سے کئی لوگوں نے غم و غصے کا اظہار کیا۔

بھارتی حکومت کے مطابق آتش بازی پر پابندی کی بڑی وجہ ایئر کوالٹی انڈیکس کا بڑھنا ہے، لیکن پابندی کے باوجود دیوالی پر بھارتی دارالحکومت کا ایئر کوالٹی انڈیکس 481 تھا، جبکہ ڈیڑھ سو سے زائد کو صحت کے لیے نقصان دہ شمار کیا جاتا ہے اور یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ ایئر کوالٹی انڈیکس پر زیادہ سے زیادہ ریٹنگ پانچ سو ہوتی ہے، اس سے زیادہ کی وہ پیمائش بھی نہیں کر سکتا۔

جرمن کی وفاقی ماحولیاتی ایجنسی کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر سال صرف آتش بازی سے ہی دو ہزار ٹن ایسے ذرات فضا میں جاتے ہیں، ان میں سے پچھہتر فیصد کردار اکتیس دسمبر کا ہوتا ہے، یعنی سالِ نو کے جشن کے موقع پر ہونے والی آتش بازی کا جو دنیا کے تقریباً ہر علاقے میں ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ماحولیاتی گروپ آتش بازی پر پابندی لگانے اور اس کے نئے متبادل، جیسا کہ ڈرونز اور لیزر شوز کے استعمال پر زور دے رہے ہیں تو دوسری جانب آتش بازی بنانے والوں کا کہنا ہے کہ وہ خطرناک مادّوں، بھاری دھاتوں اور ماحول دشمن پلاسٹکس کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ لیکن حالات جو بھی رخ اختیار کریں، لگتا یہی ہے کہ آتش بازی کے دن گنے جا چکے ہیں اور جلد یا بدیر روایتی آتش بازی کا خاتمہ ہو جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں