The news is by your side.

Advertisement

کیا یہ تصویر بیروت دھماکے کے بعد کی ہے؟

بیروت: لبنان میں ہونے والے دھماکے کے حوالے سے ایک نئی تصویر سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے جس کی اصل حقیقت سامنے آگئی۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر ایسی تصویر وائرل ہے جس سے متعلق کہا جارہا ہے کہ یہ بیروت دھماکے کے بعد کی صورت حال ہے، تصویر میں گہرا گڑھا دیکھا جاسکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس تصویر کے ذریعے یہ افواہ پھیلائی جارہی تھی کہ دھماکے کا مرکز یہی تھا جس کے باعث کئی فٹ گہرا گڑھا بن چکا ہے، لیکن بعد میں تصویر کی اصل حقیقت نے جھوٹ بے نقاب کردیا۔

بیروت دھماکے سے متعلق تہلکہ خیز انکشاف

مذکورہ تصویر بیروت کی نہیں بلکہ چینی شہر تنجیانگ میں 2015 میں ہونے والے دھماکے کی ہے جسے لبنان دھماکے سے منسوب کیا جارہا تھا۔ یہ تصویر ماضی میں یورپین پریس ایجنسی کی جانب سے لی گئی تھی۔

خیال رہے کہ 2015 میں تنجیانگ کے کیمیائی ہاؤس میں دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں 85 لوگ مارے گئے تھے۔

یاد رہے کہ ایک ہفتے قبل لبنان کے دارالحکومت بیرون کی بندرگاہ پر خوفناک دھماکے ہوئے تھے جس کے اثرات 24 سے 30 کلومیٹر دور تک گئے تھے، دھماکے کے نتیجے میں 160 افراد جاں بحق جبکہ سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں