The news is by your side.

Advertisement

کیا وائی فائی کا پاس ورڈ “فیس بک” آئی ڈی ہیکنگ کا بڑا سبب ہے؟

فکسنگ اٹیک کو “فیس بک اکاؤنٹ ” ہیک کرنے کا سب سے آسان طریقہ سمجھا جاتا ہے، اس غیر قانونی کام کو کرنے کے لئے ہیکرز جعلی ” لاگ ان” تیار کرتے ہوئے جو کہ ہو بہو اصلی فیس بک کی طرح لگتا ہے۔

جعلی لاگ ان تیار ہونے کے بعد دوسرے صارف کو لاگ ان ہونے کا کہتا ہت، اگر صارف ایک بار جعلی پیج پر لاگ ان ہوجائے تو اس کا ای میل اور پاس ورڈ ٹیکسٹ فائل میں محفوظ ہوجاتا ہے، ٹیکسٹ فائل ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد ہیکر صارف کا فیس بک پیج ہیک کرتا ہے۔

‘فیس بک’ سماجی رابطے کی ویب سائٹ میں سب سے زیادہ مقبول ترین ویب سائٹ ہے، لیکن اب سائبر کرائم بھی اس مقبول سائٹ پر موجود ہیں، فیس بک ہیک کرکے یا فیس بک کے جعلی پروفائلز بنا کر سائبر کرائم کرنے والے افراد عام یا مخصوص لوگوں سے دھوکہ دہی کے فریب میں مصروف ہیں۔

تاہم فیس بک اپنے صارفین کی رازداری کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ہر روز رازداری (پرائیویسی) کے نئے ٹولز متعارف کرا رہا ہے، ان سب کے باوجود ہیکرز صارفین کے فیس بک اکاؤنٹ کو ہیک کرتے ہیں اور صارفین اس سے واقف نہیں ہوتے ہیں۔

ایسی صورتحال میں ہم آپ کو ہیکرز کے ذریعہ اکاؤنٹ کو ہیک کرنے اور ہیکنگ سے بچنے کے طریقوں کے بارے میں بتا رہے ہیں، ان چیزوں کو جان کر آپ اپنا اکاؤنٹ مزید محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

فیس بک کو ہیکنگ اور جعلی پروفائلز سے بچانے کے طریقے

سائبر کے ماہر راہل کمار نے فیس بک کو ہیک اور جعلی پروفائلز سے بچانے کے لیے بہت سے طریقہ کار بتائے ہیں۔

فیس بک صارفین کو دو طریقوں سے ہیک کیا جاتا ہے، پہلا یہ کہ فیس بک صارفین کے جعلی پروفائلز بنا کر ان کے ذریعہ رقم کا مطالبہ کیا جاتا ہے، جعلی فیس بک پروفائلز بنانے کے لیے سائبر مجرم صارفین کی تصاویر چوری کرتے ہیں اور پھر پروفائل بنا کر ان کا استعمال کرتے ہیں۔

دوسری بات یہ کہ مجرم فیس بک کو ہیک کرتے ہیں اور آپ کا پروفائل استعمال کرتے ہیں اور آپ کو معلومات تک نہیں مل پاتی ہیں، ان دو طریقوں سے حالیہ دنوں میں فیس بک کی طرف سے (فکسنگ اٹیک) مسلسل حملہ ہوتا رہا ہے۔

سائبر ماہر نے خبردار کیا کہ کسی دوسرے ٹولز سے فیس بک اکاؤنٹ میں لاگ ان نہ ہوں، ہمیشہ ‘کروم براؤزر’ کا ہی استعمال کریں۔ ای میلز کو نظرانداز کریں جو آپ سے فیس بک اکاؤنٹ میں لاگ ان ہونے کو کہتے ہیں، اپنے کمپیوٹر پر ہمیشہ مضبوط پاس ورڈ استعمال کریں۔

غیر محفوظ کنکشن بھی آپ کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے، سیشن ہائیجیکنگ کے ذریعہ ہیکرز صارف کی ‘براؤزر کوکی’ چوری کرتا ہے، جو ویب سائٹ پر صارف کو مستند کرنے کے ساتھ ساتھ صارف کے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

موبائل فون ہیکنگ کے ذریعہ زیادہ تر لوگ اپنے موبائل فون کے ذریعے فیس بک کا استعمال کرتے ہیں، اگر ہیکر صارف کے موبائل فون کو ہیک کرسکتا ہے۔

سائبر ماہرین کے مطابق اپنے اسمارٹ فون میں ایک اچھا اینٹی وائرس پروگرام اور موبائل سافٹ ویئر استعمال کریں، کسی بھی نامعلوم ذریعہ سے ایپز انسٹال نہ کریں۔ عام طور پر فیس بک صرف جی میل (Gmail) اور ای میل اکاؤنٹس کے ذریعے ہی استعمال ہوتا ہے۔

آپ اپنے موبائل اور لیپ ٹاپ کے علاوہ کہیں اور لاگ ان ہوئے ہیں تو فورا سیٹنگز میں جائیں اور لاگ آؤٹ کریں اور اپنا پاس ورڈ تبدیل کریں، اس سے آپ کا اکاؤنٹ محفوظ ہوجائے گا۔

وائی فائی کے پاس ورڈ کو ہیک کرنا انتہائی آسان ہوتا ہے، ایسی صورتحال میں اگر آپ ہر ہفتے اپنا پاس ورڈ تبدیل نہیں کرتے ہیں تو یہ آپ کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے، اس لئے ضروری ہے کہ آپ وائی فائی کے بارے میں بہت سنجیدہ ہوں، اگر کوئی آپ کا وائی فائی استعمال کرنے والے کو دھمکی آمیز ای میل بھیجتا ہے تو تفتیش کے دوران سرور آپ کو دکھائے گا اور پولیس آپ کے گھر براہ راست پہنچ جائے گی۔

اگر آپ اپنی فیس بک آئی ڈی پر اپنی تصویر کا استعمال کرتے ہیں تو آپ کی جعلی آئی بننے کا امکان بھی زیادہ ہے، اس کے لئے ضروری ہے کہ اکاؤئنٹ ہیک ہونے ک صورت میں آپ زیادہ سے زیادہ افراد کو آئی ڈی کی لنک بھیج کر اسے ‘رپورٹ اسپیم’ کرنے کے لیے کہیں گے تو ایسی جعلی پروفائل ہمیشہ کے لیے بند کردی جاتی ہے۔

اس کے لیے آپ کو فیس بک کی سیٹنگ میں ہی ‘رپورٹ دی پروفائل’ کا آپشن ملے گا، اس اختیار میں آپ اکاؤنٹ کی اطلاع کیوں دے رہے ہیں؟ اس کی وجہ بتانا ہوگی۔ اس کے بعد فیس بک اپنی سطح پر آپ کے دعووں کی تحقیقات کرے گا اور اگر آپ کے دعوے سچ ثابت ہوئے تو جعلی اکاؤنٹ بند کردیا جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں