The news is by your side.

Advertisement

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلئے قائم بینچ پر اعتراض اٹھا دیا

اسلام آباد : جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلئے قائم بینچ پر اعتراض اٹھا دیا اور کہا بینچ کی تشکیل سے پہلے سینئرججز سے مشاورت نہیں کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلئے قائم بینچ پر اعتراض اٹھاتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان عطا بندیال کو خط لکھ دیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا خط تین صفحات پر مشتمل ہے ، خط کی کاپی اٹارنی جنرل ،سپریم کورٹ بار صدر احسن بھون کوبھی ارسال کی گئی ہے۔

خط میں کہا کہ روایت کے مطابق بینچ سینئرموسٹ ججزپرمشتمل نہیں ، انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہئیے ہوتا ہوانظر بھی آنا چاہیے، ریفرنس سماعت کیلئے سینئر موسٹ ججز پر مشتمل بینچ تشکیل دیاجاتا ہے۔

آئین کی تشریح جیسے اہم معاملے پر بینچ کی تشکیل میں سینئر ججز کو نظر انداز کیا گیا، صدارتی ریفرنس پر پوری قوم کی نظریں ہیں، اہم کیس کیلئےبینچ کی تشکیل سے پہلے سینئر جج سے مشاورت نہیں کی گئی۔

لارجر بینچ میں سینئر ججز کو شامل نہیں کیا گیا، بینچ کی تشکیل سے پہلے رولز کو فالو نہیں کیا گیا، بینچ میں سینیارٹی پرچوتھے آٹھویں اور تیرہویں نمبر کے ججزکو شامل کیا گیا، اہم قانونی ،آئینی سوالات پرسینئر ججز کا بینچ میں شامل ہونا چاہیے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سول سرونٹ کی بطور رجسٹرار تقرری پر بھی اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا میری رائےمیں رجسٹرار کی تقرری خلاف آئین ہے، یہ خط لکھنے سے پہلے دو بار سوچا۔

سپریم کورٹ بار درخواست،ریفرنس ایک ساتھ سماعت کیلئے مقرر کرنے کا حکم آیا، سپریم کورٹ بار کی درخواست اور صدارتی ریفرنس ایک ساتھ نہیں سنا جا سکتا کیونکہ سپریم کورٹ بار کی درخواست آرٹیکل 184/3 کے تحت دائر کی گئی ہے، صدارتی ریفرنس مشاورتی دائرہ اختیار ہے۔

یاد رہے گذشتہ روز چیف جسٹس پاکستان عطا بندیال نے صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلئے بینچ تشکیل دیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں