The news is by your side.

Advertisement

اسلام آباد تشدد کیس، متاثرہ جوڑے نے پولیس کو بیان ریکارڈ کرادیا

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں پیش آنے والے واقعے کے متاثرہ جوڑے نے پولیس کی جانب سے تحفظ فراہم کرنے کے بعد اپنا بیان ریکارڈ کرادیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق اسلام آباد میں لڑکے اور لڑکی کو برہنہ اورتشددکیس میں اہم پیشرفت اُس وقت سامنے آئی جب پولیس متاثرین کو کیس کا حصہ بنانے پر رضامند ہوئی۔

متاثرہ جوڑے نے پولیس کو  علیحدہ علیحدہ 161 کے تحت بیانات ریکارڈ کرادیے، جس کے بعد پولیس نے دونوں کے بیانات کو تفتیش کا حصہ بنا دیا۔

پولیس حکام کے مطابق متاثرین مکمل تحفظ اورقانونی امداد کی یقین دہانی پر کیس میں شامل ہونے پر راضی ہوئے،دونوں متاثرین نے راولپنڈی میں پولیس کو بیان ریکارڈکرائے ہیں۔

وزیراعظم کا نوٹس

واضح رہے کہ آج وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں پیش آنے والے واقعے کا نوٹس لے کر آئی جی اسلام آباد سے رابطہ کیا اور انہیں ملوث افراد کو ہر صورت کیفرکردار تک پہنچانے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم نے آئی جی اسلام آباد کو ہدایت کی کہ اس واقعے کو ٹیسٹ کیس کے طور پر لیا جائے اور ملوث افراد کو قرار واقع سزا دی جائیں۔

واقعہ کیا ہے؟

خیال رہے سوشل میڈیا پر اسلام آباد کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی ، جس میں چار نوجوانوں کو ایک نوجوان اور لڑکی پر تشدد کرتے دیکھا جاسکتا تھا، ویڈیو وائرل ہونے پر ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے نوٹس لیا۔

اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقت نے ایک روز قبل یقین دہانی کرائی تھی کہ مقدمے میں نامزد یا ویڈیو میں نظر آنے والے تمام ملزمان کو گرفتار کرلیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ عثمان مرزا گاڑیوں کی خرید و فروخت کا کام کرتا ہے، متاثرین کی جانب سے شکایت درج نہ کروانے پر سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا۔

مزید پڑھیں: ‏’تشدد کیس کے ملزمان کو سزائے موت بھی ہو سکتی ہے‘‏

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم عمران خان کا اسلام آباد میں خاتون کو برہنہ اورتشدد کرنے کے واقعے کا نوٹس

پولیس حکام کے مطابق متاثرہ لڑکا اور لڑکی گھر میں موجود تھے کہ اسی دوران مرکزی ملزم اپنے دوستوں سمیت وہاں پہنچ گیا، جس نے دونوں کو اسلحے کے زور پر حبس بیچا میں رکھا جبکہ لڑکی کی غیر اخلاقی ویڈیو بھی بنائی۔ پولیس نے بتایا کہ مرکزی ملزم عثمان پیسوں کیلئے لڑکے اور لڑکی کو بلیک میل کررہا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ ویڈیو چار سے پانچ ماہ پرانی ہے، واقعے کے بعد لڑکا اور لڑکی نے خاموشی اختیار کرلی تھی۔

سرکاری مدعیت میں مقدمے کا اندراج

بعد ازاں اسلام آباد کے تھانہ گولڑہ میں ملزمان کے خلاف تشدد اور غیر اخلاقی ویڈیو بنانے کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا ، جس میں اسلام آباد پولیس کے سب انسپیکٹر مدعی ہیں۔ ایف آئی آر کے مطابق واقع ای الیون ٹو میں واقع اپارٹمنٹس میں پیش آیا۔

ملزمان کی گرفتاری

پولیس حکام نے ملزمان کو چند گھنٹوں میں گرفتار کرلیا، جن میں مرکزی ملزم کی شناخت عثمان میر کے نام سے ہوئی جبکہ اُس کے ساتھ مزید تین دوست بھی تھے، جن کو گزشتہ روز گرفتار کرلیا گیا، حراست میں لیے جانے والے ملزمان کی شناخت، فرحان، عطا الرحمان کے ناموں سے ہوئی جبکہ تیسرے کا نام سامنے نہیں آیا۔

ضمانت کی افواہوں کی تردید

اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے بتایا تھا کہ ’ملزمان کو مجاز عدالت میں پیش کر کے جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا گیا، کوئی شخص کتنا بھی بااثر کیوں نہ ہو قانون سے بالاتر نہیں ہوتا‘۔

ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق ’ملزمان کی ضمانت منظور ہونے سے متعلق خبریں زیر گردش ہیں، جس میں کوئی صداقت نہیں کیونکہ یہ جھوٹ پر مبنی ہیں‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں