جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی موجودہ عمارت پر اربوں روپے خرچ ہوئے لیکن اے سی سسٹم کام نہیں کررہا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کی موجودہ عمارت سے متعلق جسٹس محسن اختر کیانی کے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم جس عمارت میں بیٹھ کر کیسز سن رہے ہیں ،ابھی تک اس کی آفیشل ہینڈنگ اوور تک نہیں ہوئی، اسلام آباد ہائی کورٹ عمارت کی ناقص تعمیر پر کوئی کارروائی کو تیار نہیں۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ میں نے نوٹ بھی لکھ کر بھیجا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ عمارت کی ناقص تعمیر کا معاملہ نیب اور ایف آئی اے کو بھیجا جائے ،ہم نے اس سے پہلے والے چیف جسٹس عامر فاروق کو بھی کہا تھا کہ اس معاملے پر کارروائی ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے ہائی کورٹ عمارت کی ناقص تعمیر کا معاملہ فل کورٹ کے سامنے بھی رکھا ہے کروڑوں روپے کا اے سی سسٹم لگا لیکن ہمیں اب الگ سے اے سی لگوانے پڑے سینٹرل اے سی سسٹم کام نہیں کررہا۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ بہتر ہے کہ وکلا اور سائلین کو ہاتھ والے پنکھے دے دیتے ہیں کتنی بد قسمتی ہے کہ پانچ ارب سے زائد خرچ ہوئے اور ابھی بھی تعمیرات مکمل نہیں ہوئیں اسلام آباد ہائی کورٹ عمارت کی تعمیر نہ تو مکمل ہوئی ہے اور نہ مکمل ہوگی۔


