The news is by your side.

Advertisement

اسلام آباد نوجوان جوڑے پر تشدد، چوتھا ملزم بھی گرفتار

اسلام آباد پولیس نے  لڑکے اور لڑکی پر تشدد اور نازیبا ویڈیو بنانے والے چوتھے ملزم کو بھی گرفتار کرلیا۔

انٹرنیٹ پر ایک روز قبل اسلام آباد کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں چار نوجوانوں کو ایک نوجوان اور لڑکی پر تشدد کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

ویڈیو وائرل ہونے پر ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے نوٹس لیا جبکہ پولیس حکام نے ملزمان کو چند گھنٹوں میں گرفتار کرلیا، جن میں مرکزی ملزم  کی شناخت عثمان  میر کے نام سے ہوئی جبکہ اُس کے ساتھ تین دوست بھی تھے، جن میں سے پولیس دو ساتھیوں فرحان، عطا الرحمان کو گرفتار کرسکی تھی۔

اب ڈی آئی جی اسلام آباد آپریشنز نے بتایا کہ ایف آئی آر میں نامزد چوتھے ملزم کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے، جس کے قبضے سے موبائل برآمد ہوا، جس میں لڑکی کی غیر اخلاقی ویڈیو موجود تھی۔

اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ ’ملزمان کو مجاز عدالت میں پیش کر کے جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا گیا، کوئی شخص کتنا بھی بااثر کیوں نہ ہو قانون سے بالاتر نہیں ہوتا‘۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد : لڑکی اور لڑکے کی برہنہ ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے والے3 ملزمان گرفتار، مقدمہ درج

ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق ’ملزمان کی ضمانت منظور ہونے سے متعلق خبریں زیر گردش ہیں، جس میں کوئی صداقت نہیں کیونکہ یہ جھوٹ پر مبنی ہیں‘۔

اسلام آباد کے تھانہ گولڑہ میں  ملزمان کے خلاف تشدد اور غیر اخلاقی ویڈیو بنانے کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، جس میں اسلام آباد پولیس کے سب انسپیکٹر مدعی ہیں۔  ایف آئی آر کے مطابق واقع ای الیون ٹو میں واقع اپارٹمنٹس میں پیش آیا۔

پولیس حکام کے مطابق متاثرہ لڑکا اور لڑکی گھر میں موجود تھے کہ اسی دوران مرکزی ملزم اپنے دوستوں سمیت وہان پہنچ گیا، جس نے دونوں کو اسلحے کے زور پر حبس بیچا میں رکھا جبکہ لڑکی کی غیر اخلاقی ویڈیو بھی بنائی۔ پولیس نے بتایا کہ مرکزی ملزم عثمان پیسوں کیلئے لڑکے اور لڑکی کو بلیک میل کررہا تھا۔  پولیس ذرائع کے مطابق یہ ویڈیو چار سے پانچ ماہ پرانی ہے، واقعے کے بعد لڑکا اور لڑکی نے خاموشی اختیار کرلی تھی۔

اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقت نے صبح یقین دہانی کرائی تھی کہ مقدمے میں نامزد یا ویڈیو میں نظر آنے والے تمام ملزمان کو گرفتار کرلیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ عثمان مرزا گاڑیوں کی خرید و فروخت کا کام کرتا ہے، متاثرین کی جانب سے شکایت درج نہ کروانے پر سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں