وزیرخزانہ اسحاق ڈار کےخلاف اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت شروعdar
The news is by your side.

Advertisement

وزیرخزانہ اسحاق ڈار کےخلاف اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت، گواہ اشتیاق علی کا بیان ریکارڈ

اسلام آباد : وزیرخزانہ اسحاق ڈارکے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت میں گواہ اشتیاق علی کا بیان ریکارڈ کیا گیا، گواہ اشتیاق علی نے اپنے بیان اورفراہم کردہ ریکارڈکی تائید کی۔

تفصیلات کے مطابق وزیرخزانہ اسحاق ڈارکے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت شروع ہوگئی،سماعت احتساب عدالت کے جج محمدبشیر کر رہے ہیں،  وزیرخزانہ اسحاق ڈار احتساب عدالت پہنچ گئے جبکہ نیب حکام اور لینڈ ریوینیو کمشنر لاہور اشتیاق علی اور نجی بینک کےسینئر نائب صدر طارق جاویدبطور گواہ پیش ہوئے۔

اس موقع پر سیکیورٹی انتظامات پر عدالت نے اطمینان کا اظہار کیا۔

آمدن سےزائداثاثہ جات ریفرنس کی سماعت کے دوران گواہ اشتیاق علی کا بیان ریکارڈ کیا گیا، گواہ اشتیاق علی نے اپنے بیان اور فراہم کردہ ریکارڈکی تائید کی، اشتیاق علی نے کہا کہ ایس ڈی ایچ سیکیورٹی کمپنی کے سی ای او کےنام پر کمپنی اکاؤنٹ کھلوایا گیا، بینک میں کمپنی کے علاوہ اسحاق ڈارکا ذاتی اکاؤنٹ بھی ہے ،سولہ اپریل 2003 کو ڈائریکٹر نعیم محمود نے ایڈریس تبدیل کرنے کا خط لکھا۔

اسحاق ڈار کے وکیل خواجہ حارث نے جرح کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے پاس خط کی کاپیاں موجودہیں، گواہ اشتیاق علی نے اثبات میں جواب دیا۔

خواجہ حارث نے پوچھاکہ دستاویزات میں ٹیمپرنگ تو نہیں کی گئی، جس پر اشتیاق علی نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ تفتیشی افسر کو اسکین کاپیاں فراہم کیں، تمام دستاویزات نیب کے ریکارڈ میں موجود ہیں۔

خواجہ حارث ایڈو کیٹ نے کہا کہ سولہ اگست کونیب نےکمپنی سےمتعلق دستاویزات نہیں مانگیں لہذا ان دستاویزات کوتسلیم نہیں کیا جانا چاہیے۔

بعد ازاں احتساب عدالت نے اگلی سماعت پرایک اورگواہ شاہد عزیز کو طلب کرتے ہوئے بارہ اکتوبر تک ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ گذشتہ سماعت میں وزیرخزانہ اسحاق ڈار پر فرد جرم عائد کی گئی تھی تاہم اسحاق ڈار نے صحت جرم سے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ عدالت میں اپنی بے گناہی ثابت کروں گا اورالزامات کا دفاع کروں گا۔

بعد ازاں اسحاق ڈار نے احتساب عدالت کی جانب سے فرد جرم عائد کرنے کے فیصلے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے اپنے خلاف ٹرائل روکنے کی بھی استدعا کی تھی۔


مزید پڑھیں : اسحاق ڈار کی فرد جرم کے خلاف درخواست عدالت میں مسترد


جس کے بعد اسلام آباد کی ہائیکورٹ نے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر فرد جرم کے خلاف ان کی دائر کردہ درخواست مسترد کردی تھی، عدالت نے ریمارکس میں کہا تھا احتساب عدالت کی کارروائی روکنے کا اختیارہائیکورٹ کونہیں۔

خیال رہے کہ اسحاق ڈارکی آج تیسری مرتبہ احتساب عدالت میں پیشی ہیں۔

اس سے قبل اسحاق ڈار کے تمام بینک اکاؤنٹس منجمد کردیئے گئے تھے اور تمام جائیداد کی خرید و فروخت اور منتقلی پر پابندی عائد کردی تھی۔


مزید پڑھیں : وزیرخزانہ اسحاق ڈار پرفرد جرم عائد


واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل نیب کی سربراہی میں نیب پراسیکیوشن ونگ نے سابق وزیراعظم نوازشریف اور ان کے بچوں ، داماد اور اسحاق ڈار کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنسزدائرکیے تھے۔قومی احتساب بیورو کی ٹیم نے شریف خاندان کے خلاف 3 اور وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے خلاف 1 ریفرنس دائر کیا تھا۔

وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے خلاف سیکشن 14 سی لگائی گئی ہے ‘جو آمدن سے زائد اثاثے رکھنے سے متعلق ہے۔ نیب کی دفعہ 14 سی کی سزا 14 سال مقرر ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں