site
stats
اہم ترین

اسحق ڈارکے تمام اثاثے منجمد

اسلام آباد: وزیر خزانہ اسحق ڈار کے تمام بینک اکاؤنٹس منجمد کردیئے گئے نیب کی ٹیم نے ان کے گھر پر چھاپہ بھی مارا، جب کہ ان کی تمام جائیداد کی خرید و فروخت اور منتقلی پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

اے آر وائی نیوز کے نمائندے ذوالقرنین حیدر کے مطابق نیب حکام کی جانب سے مختلف شہروں میں اسحق ڈار کی تمام جائیداد کی خریدو وفروخت اور منتقلی پر پابندی کا حکم نامہ جاری کردیا گیا ساتھ ہی بینک اکاؤنٹس بھی منجمد کردیئے گئے ہیں۔

نمائندے کے مطابق نیب لاہور کی جانب سے ایک خط ایل ڈی اے، اسلام آباد اتھارٹی، ڈی ایچ اے سوسائٹی، سینیٹ کی ہاؤسنگ سوسائٹی سمیت مختلف بینکوں کو بھی لکھا گیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ وزیر خزانہ اسحق ڈار کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات کی تحقیقات چل رہی ہے اس لیے ان کی جتنی بھی جائیداد ہے اس کی خریدو فروخت اور منتقلی پر پابندی عائد کردی جائے۔

 اس حوالے سے نیب حکام کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار کےخلاف کیس چل رہا ہے، لہٰذا ان کی جائیداد نہ تو خریدی جاسکتی ہے اور نہ کسی کو منتقل کی جاسکتی ہے۔

نیب نے بینکوں کو ہدایت دی ہے کہ اسحق ڈار کے اکاؤنٹس میں موجود تمام رقم کہیں منتقل نہیں ہوسکتی انہیں منجمد کردیا جائے، اگر کسی ادارے نے بھی قانون کی خلاف ورزی کی تو اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اطلاعات ہیں کہ بینکوں نے ان کے اکاؤنٹس اور اداروں نے ان کی جائیداد کی فروخت یا کسی اور کو منتقلی پر پابندی عائد کردی ہے۔

نیب کا خط اے آر وائی نیوز نےحاصل کرلیا، اسحاق ڈارکی جائیداد ضبط کرنے کی خبر سب سے پہلے اے آر وائی نیوز نےگزشتہ روز نشر کی تھی۔

نیب نے اسحاق ڈارکے گھر پر چھاپہ نہیں مارا، نوٹس دینے گئے، ترجمان

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق نیب کی ٹیم نے اسحاق ڈار کے گھر پر چھاپہ مارا ہے اور ملازمین سے پوچھ گچھ کی ہے، تاہم نیب ترجمان نے خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسحاق ڈار کے گھر چھاپہ نہیں مارا، ان کی رہائش گاہ پر نوٹس دینے گئے تھے۔

نیب عدالت کی جانب سے آج ہی وارنٹ جاری ہوئے ہیں اور نیب کے تفتیشی افسر کی سربراہی میں دو رکنی ٹیم نے اسی بنیاد پر آج منسٹرز انکلیو میں واقع ان کے گھر پرنوٹس ارسال کیا ہے۔

خیال رہے کہ اسحاق ڈار اس وقت ملک میں نہیں ہیں، تاہم اطلاعات ہیں کہ اسحاق ڈار نے نیب کی ٹیم کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ جلد وطن واپس پہنچیں گے۔

وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے خلاف احتساب عدالت نے اثاثہ جات کیس میں وارنٹ گرفتاری وزارت داخلہ کو بھیج دیئے، اسحاق ڈار نے نیب ریفرنس پر ضمانت قبل از گرفتاری کروانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

 آج بروز بدھ  اسلام آباد کی احتساب عدالت میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدنی سے زیادہ اثاثے بنانے کے نیب ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ عدالت میں ان کی عدم پیشی پر برہمی کا اظہار کیا گیا، سماعت کے دوران نیب نے وفاقی وزیرِ خزانہ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا کی۔

وفاقی وزیرِ خزانہ اور مسلم لیگ ن کے اہم رہنما اسحاق ڈار کی جانب سے ان کے پروٹوکول آفیسر فضل داد احتساب عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

عدالت نے نیب کی درخواست پر پیش رفت کرتے ہوئے اثاث جات کیس میں اسحاق ڈار کے قابلِ گرفتاری وارنٹ جاری کیے اور حکم دیا کہ انہیں 25 ستمبر کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جائے۔

گرفتاری کے احکامات جاری کرنے کے ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار10لاکھ روپےکےمچلکوں کےعوض ضمانت کراسکتےہیں۔

ذرائع کے مطابق نیب کے بھیجے گئے وارنٹ گرفتاری وزارت خارجہ کو موصول ہوگئے ہیں، وزارت خارجہ اسحاق ڈار کے لندن کے گھر کے باہر وارنٹ چسپاں کرنے کو یقینی بنائے گی۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے نیب ریفرنس پر ضمانت قبل از گرفتاری کروانے کا فیصلہ کر لیاہے۔

نیب نے ریفرنس دائر کردیا


یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل نیب کی سربراہی میں نیب پراسیکیوشن ونگ نے سابق وزیراعظم نوازشریف اور ان کے بچوں ، داماد اور اسحاق ڈار کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنسزدائرکیے تھے۔قومی احتساب بیورو کی ٹیم نے شریف خاندان کے خلاف 3 اور وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے خلاف 1 ریفرنس دائر کیا تھا۔

وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے خلاف سیکشن 14 سی لگائی گئی ہے ‘جو آمدن سے زائد اثاثے رکھنے سے متعلق ہے۔ نیب کی دفعہ 14 سی کی سزا 14 سال مقرر ہے۔


مزید پڑھیں:اسحاق ڈار کے اکاؤنٹس منجمد کرنے کیلئے  بینکوں کو درخواست


پاناما کیس کا نتیجہ


یاد رہے کہ 28 جولائی کوسپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے پاناما کیس کے فیصلے میں سابق وزیراعظم نوازشریف کو نااہل قرار دیتے ہوئے ان کے اور ان کے خاندان کے افراد کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے نیب کو حکم دیا تھا کہ وہ 6 ہفتے کے اندر نوازشریف اور ان کے بچوں مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز اور اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنس دائر کرے اور 6 ماہ میں ان پر کارروائی مکمل کی جائے۔

کیا حکومت کو اسحاق ڈار کے سوا کوئی بندہ نہیں ملا ؟ کامل علی آغا

علاوہ ازیں سینیٹر کامل علی آغا نے کہا ہے کہ وزیرخزانہ ملک میں موجود نہیں این ایف سی پر کیا بات کریں؟ حکومت کی نااہلی ہے کہ ایسا شخص وزیر بنایا گیا جس کےوارنٹ گرفتاری نکلے ہوئے ہیں۔

وزیرخزانہ بھاگے ہوئے ہیں، اشتہاری قراردیئےجاسکتےہیں، کامل علی آغا کا کہنا تھا کہ کیا حکومت کو اور کوئی بندہ نہیں ملا اس وزارت کیلئے؟

انہوں نے پیشکش کی کہ اگرکوئی بندہ نہیں تو ہم حکومت کو شبلی فراز ادھار پر دے سکتے ہیں، یہ سنجیدہ مسئلہ ہے اس کانوٹس لیاجائے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top